ذبح کر رہا ہے تو اس پر بد گمانی حرام و ناروا ہے اور خود سے بنائے ہوئے ذہنی تَصوُّرات پر کسی مسلمان کو معاذ اللہ کفر کا مُرتکب سمجھنا اللہ تعالیٰ کے حلال کئے ہوئے کو حرام کہہ دینا ہے اور تکبیر کے وقت جو اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا اسے باطل و بے اثر ٹھہرانا ہر گزصحیح ہونے کی کوئی وجہ نہیں رکھتا ۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَمَا لَکُمْ اَلَّا تَاۡکُلُوۡا مِمَّا ذُکِرَاسْمُ اللہِ عَلَیۡہِ (انعام:۱۱۹)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور تمہیں کیا ہے کہ تم اس میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے ۔
امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ہمیں شریعت مطہرہ نے ظاہر پر عمل کرنے کا حکم فرمایا ہے باطن کی تکلیف نہ دی تو جب اس نے اللہ تعالیٰ کا نام پاک لے کر ذبح کیا توجانور کا حلال ہو نا واجب ہے کہ دل کا ارادہ جان لینے کی طرف ہمیں کوئی راہ نہیں۔ (تفسیرکبیر، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۷۳، ۲/۲۰۱)
اس مسئلے کے بارے میں مزید تفصیل اور دلائل جاننے کیلئے فتاویٰ رضویہ کی 20ویں جلد میں موجود اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا رسالہ ’’سُبُلُ الْاَصْفِیَاء فِیْ حُکْمِ ذَبَائِح لِلاَوْلِیَائ‘‘ مطالعہ فرمائیں۔
{فَمَنِ اضْطُرَّ:تو جو مجبور ہوجائے۔} مُضطَریعنی مجبور جسے حرام چیزیں کھانا حلال ہے وہ ہے جو حرام چیز کے کھانے پر مجبور ہو اور اس کو نہ کھانے سے جان چلی جانے کا خوف ہواور کوئی حلال چیز موجود نہ ہو خواہ بھوک یا غربت کی وجہ سے یہ حالت ہو یا کوئی شخص حرام کے کھانے پر مجبور کرتا ہو اورنہ کھانے کی صورت میں جان کااندیشہ ہو ایسی حالت میں جان بچانے کے لیے حرام چیز کا قدرِ ضرورت یعنی اتنا کھالینا جائز ہے کہ ہلاکت کا خوف نہ رہے بلکہ اتنا کھانا فرض ہے۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۷۳، ۱/۱۱۳)
{غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ: بخشنے والا ، مہربان۔} حالت ِ مجبوری میں حرام کھانے کی اجازت دینا اور اسے معاف رکھنا اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی کی دلیل ہے اس لئے آیت کے آخر میں مغفرت و رحمت والی صفات کا تذکرہ فرمایا۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکْتُمُوۡنَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ مِنَ الْکِتٰبِ وَیَشْتَرُوۡنَ بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًاۙ اُولٰٓئِکَ مَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمْ اِلَّا النَّارَ وَلَا یُکَلِّمُہُمُ اللہُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلَا یُزَکِّیۡہِمْۚۖ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ﴿۱۷۴﴾