Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
275 - 520
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور کافروں کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو کسی ایسے کو پکارے جو خالی چیخ و پکار کے سوا کچھ نہیں سنتا۔ (یہ کفار) بہرے، گونگے، اندھے ہیں تو یہ سمجھتے نہیں۔ 
{وَمَثَلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا: اور کافروں کی مثال۔} حضور پرنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکافروں کو مسلسل دینِ حق کی دعوت دیتے رہتے۔ کافر سنتے تو تھے لیکن اس سے کچھ نفع حاصل نہ کرتے یعنی ایمان نہ لاتے۔ ان کے اس سننے کی مثال بیان کی گئی کہ جس طرح جانوروں کا ایک ریوڑ ہو اور ان کا مالک انہیں آواز دے تو وہ محض ایک آواز تو سنتے ہیں لیکن مالک کے کلام کا مفہوم نہیں سمجھتے، یونہی کافروں کا حال ہے کہ حبیب ِ خداصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَانہیں حق کی طرف بلاتے ہیں ، یہ ان کا کلام سنتے ہیں لیکن جواب میں جانوروں جیسا طرزِ عمل ظاہر کرتے ہیں۔ ایسے آنکھ، کان، زبان کا کیا فائدہ جس سے کوئی نفع نہ اٹھایا جاسکے۔ اس اعتبار سے تو یہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں۔ اس آیت میں کچھ درس ہمارے لئے بھی ہے کہ دعوت و تبلیغ، وعظ و نصیحت، قرآن و حدیث ، اصلاح و تفہیم کے باوجود جو طرزِ عمل ہمارا ہے وہ بھی کچھ سوچنے کا تقاضا کرتا ہے کہ اِس اعتبار سے ہمارے آنکھ، کان بھی کھلے ہوئے ہیں یا نہیں ؟ 
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ وَاشْکُرُوۡا لِلہِ اِنۡ کُنۡتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوۡنَ﴿۱۷۲﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والوکھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں اور اللہ  کا احسان مانو اگر تم اسی کو پوجتے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں کھاؤاور اللہ  کا شکر ادا کرواگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔ 
{وَاشْکُرُوۡا لِلہِ:اور اللہ  کا شکر ادا کرو۔}اللہ تعالیٰ نے ہمیں کھانے سے منع نہیں فرمایا بلکہ کئی مقامات پررزقِ الٰہی کھانے کا بیان کیا، جیسے سورۂ بقرہ آیت168،سورۂ مائدہ87 ،88،سورۂ اعراف آیت31،32اورسورۂ نحل آیت 114وغیرہ ۔ الغرض اس طرح کے بیسیوں مقامات ہیں جہاں رزقِ الٰہی سے لطف اندوز ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔ صرف یہ شرط لگائی ہے کہ حرام چیزیں نہ کھاؤ، حرام ذریعے سے حاصل کرکے نہ کھاؤ، کھا کر غافل نہ ہوجاؤ، یہ چیزیں تمہیں اطاعت ِ الٰہی سے دور نہ کردیں ، کھا پی کر اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا شکر ادا کرو۔ چنانچہ فرمایا: اور اللہ  کا شکر ادا کرواگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔