(3)… صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر ملے گا۔ (پ۲۳، الزمر: ۱۰)
(4)…صبر کرنے والوں کی جزاء دیکھ کر قیامت کے دن لوگ حسرت کریں گے۔ (معجم الکبیر، ۱۲/۱۴۱، الحدیث: ۱۲۸۲۹)
(5)…صبر کرنے والے رب کریم عَزَّوَجَلَّکی طرف سے درودو ہدایت اور رحمت پاتے ہیں۔ (پ۲، البقرۃ: ۱۵۷)
(6)… صبر کرنے والے اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں۔ (پ۴، آل عمران: ۱۴۶)
(7)… صبر آدھا ایمان ہے۔ (مستدرک، کتاب التفسیر، الصبر نصف الایمان، ۳/۲۳۷، الحدیث: ۳۷۱۸)
(8)… صبر جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ (احیاء العلوم، کتاب الصبر والشکر، بیان فضیلۃ الصبر، ۴/۷۶)
(9)…صبر کرنے والے کی خطائیں مٹا دی جاتی ہیں۔(ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی الصبر علی البلائ، ۴/۱۷۹، الحدیث: ۲۴۰۷)
(10)…صبر ہر بھلائی کی کنجی ہے۔(شعب الایمان، السبعون من شعب الایمان، فصل فی ذکر ما فی الاوجاع۔۔۔ الخ، ۷/۲۰۱، رقم: ۹۹۹۶)
غیر خدا سے مدد طلب کرنا شرک نہیں :
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہو اکہ غیر خدا سے مدد طلب کرنا شرک نہیں ہے ۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰیعَلَیْہِ فرماتے ہیں :’’خدارا انصاف ! اگر آیۂ کریمہ’’ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ‘‘ میں مطلق استعانت کا ذات ِالٰہی جَلَّ وَعَلا میں حصر مقصود ہو تو کیا صرف انبیاءعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہی سے استعانت شرک ہوگی، کیا یہی غیر خدا ہیں ، اور سب اشخاص واشیاء وہابیہ کے نزدیک خدا ہیں یا آیت میں خاص انہیں کا نام لے دیا ہے کہ ان سے شرک اوروں سے روا ہے۔ نہیں نہیں ، جب مطلقا ًذات اَحَدِیَّت سے تخصیص اور غیر سے شرک ماننے کی ٹھہری تو کیسی ہی استعانت کسی غیر خدا سے کی جائے ہمیشہ ہر طرح شرک ہی ہوگی کہ انسان ہوں یا جمادات ، اَحیاء ہوں یا اموات، ذوات ہوں یاصفات، افعال ہوں یا حالات، غیر خدا ہونے میں سب داخل ہیں ، اب کیاجواب ہے آیۂ کریمہ کا کہ رب جَلَّ وَعَلا فرماتاہے:
’’ اسْتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ‘‘ (البقرۃ: ۴۵)
استعانت کرو صبر ونماز سے۔
کیا صبر خدا ہے جس سے استعانت کا حکم ہوا ہے؟ کیا نماز خدا ہے جس سے استعانت کو ارشاد کیا ہے۔ دوسری آیت میں فرماتاہے:
’’ وَتَعَاوَنُوۡا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی ‘‘ (مائدہ:۲)
آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرو بھلائی اور پرہیزگاری پر۔