حضورسید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ بھی نماز سے مدد چاہتے تھے جیساکہ حضرت حذیفہ رَضِیَاللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :’’ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو جب کوئی سخت مہم پیش آتی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نماز میں مشغول ہوجاتے ۔( ابو داؤد، کتاب التطوع، باب وقت قیام النبی صلی اللہ علیہ وسلم من اللیل، ۲/۵۲، الحدیث: ۱۳۱۹)
اسی طرح نماز اِستِسقا اور نمازِحاجت بھی نماز سے مدد چاہنے ہی کی صورتیں ہیں۔
{ اِنَّ اللہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ: بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔} حضرت علامہ نصر بن محمد سمرقندی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰیعَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اللہتعالیٰ (اپنے علم و قدرت سے) ہر ایک کے ساتھ ہے لیکن یہاں صبر کرنے والوں کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات دور کر کے آسانی فرمائے گا۔(تفسیر سمرقندی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۵۳، ۱/۱۶۹)
صبر کی تعریف :
اس آیت میں صبر کا ذکر ہوا ،صبر کا معنی ہے نفس کو ا س چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو۔(مفردات امام راغب، حرف الصاد، ص۴۷۴)
صبر کی اقسام:
بنیادی طور پر صبر کی دو قسمیں ہیں : (۱)…بدنی صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اور ان پر ثابت قدم رہنا (۲)…طبعی خواہشات اور خواہش کے تقاضوں سے صبر کرنا۔ پہلی قسم کا صبر جب شریعت کے موافق ہو توقابل تعریف ہوتا ہے لیکن مکمل طور پر تعریف کے قابل صبر کی دوسری قسم ہے۔ (احیاء العلوم، کتاب الصبر والشکر، بیان الاسامی التی تتجدد للصبر۔۔۔الخ، ۴/۸۲)
صبر کے فضائل:
قرآن و حدیث اور بزرگان دین کے اقوال میں صبر کے بے پناہ فضائل بیان کئے گئے ہیں ،ترغیب کے لئے ان میں سے 10فضائل کا خلاصہ درج ذیل ہے:
(1)… اللہتعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (پ ۱۰، الانفال: ۴۶)
(2)…صبر کرنے والے کو اس کے عمل سے اچھا اجر ملے گا۔ (پ۱۴، النحل: ۹۶)