کیوں صاحب! اگرغیر خدا سے مددلینی مطلقاً محال ہے تو اس حکم الٰہی کا حاصل کیا، اور اگر ممکن ہو تو جس سے مدد مل سکتی ہے اس سے مدد مانگنے میں کیا زہرگھل گیا۔ حدیثوں کی تو گنتی ہی نہیں بکثرت احادیث میں صاف صاف حکم ہے کہ (۱) صبح کی عبادت سے استعانت کرو۔(۲) شام کی عبادت سے استعانت کرو۔(۳)کچھ رات رہے کی عبادت سے استعانت کرو۔ (۴) علم کے لکھنے سے استعانت کرو ۔(۵) سحری کے کھانے سے استعانت کرو۔(۶) دوپہر کے سونے سے استعانت و صدقہ سے استعانت کرو۔(۷) حاجت روائیوں میں حاجتیں چھپانے سے استعانت کرو۔ (فتاوی رضویہ، ۲۱/۳۰۵-۳۰۶)
مزید تفصیل کے لئے فتاوی رضویہ کی 21ویں جلد میں موجود رسالہ’’بَرَکَاتُ الْاِمْدَادْ لِاَہْلِ الْاِسْتِمْدَادْ‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔
وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اَمْوٰتٌ ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّلٰکِنۡ لَّا تَشْعُرُوۡنَ﴿۱۵۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہوبلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبرنہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جواللہکی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں۔
{وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اَمْوٰتٌ:اور جواللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو۔} صبر کے ذکر کے بعد اب صبر کرنے والوں کی ایک عظیم قسم یعنی شہیدوں کا بیان کیا جارہا ہے۔ یہ آیت ِکریمہ شہداء کے حق میں نازل ہوئی۔ بعض لوگ شہداء کی شہادت پر افسوس کرتے ہوئے کہتے تھے کہ وہ لوگ شہید ہو کر نعمتوں سے محروم ہو گئے۔ تب یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۵۴، ۱/۱۰۳)
جس میں فرمایا گیا کہ انہوں نے فانی زندگی اللہتعالیٰ کی راہ میں قربان کر کے دائمی زندگی حاصل کرلی ہے۔
شہداء کے فضائل:
اس آیت میں شہداء کو مردہ کہنے سے منع کیا گیا ہے، نہ زبان سے انہیں مردہ کہنے کی اجازت ہے اور نہ دل میں انہیں مردہ سمجھنے کی اجازت ہے،جیسا کہ ایک اور مقام پر فرمانِ باری تعالیٰ ہے:وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اَمْوٰتًا ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوۡنَ ﴿۱۶۹﴾ۙ (ال عمران:۱۶۹)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو اللہکی راہ میں شہید کئے گئے ہر گز انہیں مردہ خیال نہ کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں ، انہیں رزق دیا جاتا ہے۔