Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
248 - 520
ثناء،توبہ واستغفار، خطبہ و دعا اور نیکی کی دعوت وغیرہ شامل ہیں۔ قلبی ذکر میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرنا، اس کی عظمت و کبریائی اور اس کی عظیم قدرت کے دلائل میں غور کرناداخل ہے نیز علماء کاشرعی مسائل میں غور کرنا بھی اسی میں داخل ہے۔ اعضاء ِبدن کے ذکر سے مراد ہے کہ اپنے اعضاء سے اللہتعالیٰ کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ اعضاء کو اطاعتِ الٰہی کے کاموں میں استعمال کیا جائے۔				(صاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۵۲، ۱/۱۲۸)
ذکر کے فضائل:
	بکثر ت احادیث میں اللہتعالیٰ کا ذکر کرنے کے فضائل بیان کئے گئے ہیں ، ان میں سے 10 احادیث کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
(1)…اللہ کا ذکرایمانِ کامل کی نشانی ہے۔ (مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث معاذ بن جبل، ۸/۲۶۶، الحدیث: ۲۲۱۹۱)
(2)…ذکراللہ دنیا و آخرت کی ہر بھلائی پانے کا ذریعہ ہے۔ 
( مشکاۃ المصابیح، کتاب الصلاۃ، باب القصد فی العمل، الفصل الثانی، ۱/ ۲۴۵، الحدیث: ۱۲۵۰)
(3)…ذکرِ الٰہی عذاب الٰہی سے نجات دلانے والا ہے۔
(مؤطا امام مالک، کتاب القرآن، باب ما جاء فی ذکر اللہ تبارک وتعالی، ۱/۲۰۰، الحدیث: ۵۰۱)
(4)…ذکر کرنے والے قیامت کے دن بلند درجے میں ہوں گے۔ 
(شرح السنّہ، کتاب الدعوات، باب فضل ذکر اللہ عزوجلّ ومجالس الذکر، ۳/۶۷، الحدیث: ۱۲۳۹)
(5)…ذکر کے حلقے جنت کی کیاریاں ہیں۔	  (ترمذی، کتاب الدعوات، ۸۲-باب، ۵/۳۰۴، الحدیث: ۳۵۲۱)
(6)…ذکر کرنے والوں کوفرشتے گھیر لیتے اور رحمت ڈھانپ لیتی ہے۔ 
(ترمذی، کتاب الدعوات، باب ما جاء فی القوم یجلسون۔۔۔ الخ، ۵/۲۴۶، الحدیث: ۳۳۸۹)
(7)… شب قدر میں اللہکا ذکر کرنے والے کو حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام دعائیں دیتے ہیں۔
( شعب الایمان، الباب الثالث والعشرون، فی لیلۃ العید ویومہما، ۳/۳۴۳، الحدیث: ۳۷۱۷)
(8)…ذکر کرنے والوں کی صحبت میں بیٹھنے والا بھی محروم نہیں رہتا۔
(مسند امام احمد، مسند المکثرین من الصحابۃ، مسند ابی ہریرۃ، ۳/۵۶، الحدیث: ۷۴۲۸)
(9)… اللہکا ذکر کرنے سے شیطان دل سے ہٹ جاتا ہے۔(بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ قل اعوذ برب الناس، ۳/۳۹۵)
(10)…اللہکے ذکر سے دل کی صفائی ہوتی ہے۔
( مشکاۃ المصابیح، کتاب الدعوات، باب ذکر اللہ عزوجل والقرب الیہ، الفصل الثالث، ۱/ ۴۲۷، الحدیث: ۲۲۸۶)