{ اَذْکُرْکُمْ: میں تمہیں یاد کروں گا۔} اللہتعالیٰ اطاعت سے یاد کرنے والوں کو اپنی مغفرت کے ساتھ، شکر کے ساتھ یاد کرنے والوں کو اپنی نعمت کے ساتھ، محبت کے ساتھ یاد کرنے والوں کواپنے قرب کے ساتھ یاد فرماتا ہے۔ بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے۔ نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : میں اپنے بندے کے گمان کے نزدیک ہوتا ہوں جو مجھ سے رکھے اور جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ، اگر بندہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اکیلا ہی یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے مجمع میں یاد کرتا ہے تو میں ا سے بہتر مجمع میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ بالشت بھر میرے قریب ہوتا ہے تو میں گز بھراس سے قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ گز بھر میرے قریب ہوتا ہے تو میں دونوں ہاتھو ں کے پھیلاؤ کے برابر اس سے قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ چل کر میری طرف آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کی طرف جاتا ہوں (یعنی جیسے اللہ کی شایانِ شان ہے یا مراد یہ ہے کہ اللہ کی رحمت اس کی طرف زیادہ تیزی سے متوجہ ہوتی ہے۔)
(بخاری، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالی: ویحذرکم اللہ نفسہ، ۴/۵۴۱، الحدیث: ۷۴۰۵)
{ وَاشْکُرُوۡا لِیۡ: اور میرا شکر کرو۔} جب کفرکا لفظ شکر کے مقابلے میں آئے تو اس کا معنی نا شکری اور جب اسلام یا ایمان کے مقابل ہو تو اس کا معنی بے ایمانی ہوتا ہے۔ یہاں آیت میں کفرسے مراد ناشکری ہے۔
شکر کی تعریف :
شکر کا مطلب ہے کہ کسی کے احسان و نعمت کی وجہ سے زبان، دل یا اعضاء کے ساتھ اس کی تعظیم کی جائے۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عرض کی :یااللہ! میں تیرا شکر کیسے ادا کروں کہ میرا شکر کرنا بھی تو تیری ایک نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: جب تو نے یہ جان لیا کہ ہرنعمت میری طرف سے ہے اور اس پر راضی رہا تو یہ شکر ادا کرنا ہے۔
(احیاء العلوم، کتاب الصبر والشکر، الشطر الثانی، بیان طریق کشف الغطاء ۔۔۔ الخ، ۴/۱۰۵)
شکر کے فضائل اور ناشکری کی مذمت:
قرآن و حدیث میں شکر کے کثیر فضائل بیان کئے گئے اور ناشکری کی مذمت کی گئی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’ لَئِنۡ شَکَرْتُمْ لَاَزِیۡدَنَّکُمْ وَلَئِنۡ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ ‘‘ (ابراہیم: ۷)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گااور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔
اور حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: