{ وَیُعَلِّمُکُمۡ مَّا لَمْ تَکُوۡنُوۡا تَعْلَمُوۡنَ: اور تمہیں وہ تعلیم فرماتا ہے جو تمہیں معلوم نہیں۔} قرآن اور احکامِ الٰہیہ جو ہم نہیں جانتے تھے وہ تاجدار رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ہمیں سکھاتے ہیں۔
نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسب کچھ سکھاتے ہیں :
اور حقیقت یہ ہے کہ صرف ظاہری مضامینِ قرآن اور اللہ تعالیٰ کے احکام ہی نہیں بلکہ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سب کچھ سکھاتے ہیں۔ کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اولین و آخرین کے علوم کے جامع ہیں۔ قصیدہ بُردہ میں امام بُوصیری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :
فَاقَ النَّبِیِّیْنَ فِیْ خَلْقٍ وَ فِیْ خُلُقٍ وَلَمْ یُدَانُوْہٗ فِیْ عِلْمٍ وَلَا کَرَمٖ
ٰؑیعنی آپ حسن و جمال اور اخلاق میں تمام نبیوں پر فائق ہیں اور علم و کرم میں کوئی آپ کے برابر نہیں۔
بخاری شریف میں حضرت عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ایک مرتبہ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور ہم کو(مخلوق کی) ابتداء ِپیدائش کی خبریں دینے لگے حتیّٰ کہ یہاں تک بیان کیا کہ جنتی لوگ اپنی منزلوں میں پہنچ گئے اور جہنمی اپنی منزلوں میں ،جس نے یاد رکھا اس نے یاد رکھا اور جو بھول گیا وہ بھول گیا۔ (یعنی تمام کائنات کی خبریں ارشاد فرمادیں۔)(بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ما جاء فی قول اللہ تعالی: وہو الذی یبدء الخلق۔۔۔ الخ، ۲/۳۷۵، الحدیث: ۳۲۹۲)
حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ہر قول و فعل میں وہ علم و حکمت ہے کہ دنیا آج تک وہ تمام علم و حکمت معلوم نہیں کرسکی۔
فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوۡا لِیۡ وَلَا تَکْفُرُوۡنِ﴿۱۵۲﴾٪
ترجمۂکنزالایمان:تو میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا اور میرا حق مانو اور میری ناشکری نہ کرو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:تو تم مجھے یاد کرو ،میں تمہیں یاد کروں گا اور میرا شکرادا کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔
{ فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ: تو تم میری یاد کرو۔} کائنات کی سب سے بڑی نعمت حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا ذکر کرنے کے بعد اب ذکر ِ الٰہی اور نعمت الٰہی پر شکر کرنے کا فرمایا جارہا ہے۔
ذکر کی ا قسام:
ذکر تین طرح کا ہوتا ہے:۔ (۱)زبانی ۔(۲)قلبی۔(۳) اعضاء ِبدن کے ساتھ ۔زبانی ذکر میں تسبیح و تقدیس، حمدو