Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
246 - 520
کَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیۡکُمْ رَسُوۡلًا مِّنۡکُمْ یَتْلُوۡا عَلَیۡکُمْ اٰیٰتِنَا وَیُزَکِّیۡکُمْ وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمۡ مَّا لَمْ تَکُوۡنُوۡا تَعْلَمُوۡنَ﴿۱۵۱﴾ؕۛ
 ترجمۂکنزالایمان: جیسے ہم نے تم میں بھیجا ایک رسول تم میں سے کہ تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں پاک کرتا اور کتاب اور پختہ علم سکھاتا ہے اور تمہیں وہ تعلیم فرماتا ہے جس کا تمہیں علم نہ تھا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جیساکہ ہم نے تمہارے درمیان تم میں سے ایک رسول بھیجاجو تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں پاک کرتا اور تمہیں کتاب اور پختہ علم سکھاتا ہے اور تمہیں وہ تعلیم فرماتا ہے جو تمہیں معلوم نہیں تھا۔
{ کَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیۡکُمْ رَسُوۡلًا مِّنۡکُمْ: جیساکہ ہم نے تمہارے درمیان تم میں سے ایک رسول بھیجا۔} خانہ کعبہ کی تبدیلی اللہتعالیٰ کی بہت بڑی نعمت تھی اب اس سے بڑی نعمت یعنی حضور سیدالمرسلین  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا بیان ہے۔ جیسے خانہ کعبہ کو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے نسبت ہے ایسے ہی ہمارے آقا  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو بھی حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے نسبت ہے۔ کعبہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تعمیر کا نتیجہ ہے اور حضور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ا س تعمیر کے بعد کی دعا کا ثمرہ ہیں۔ 
اللہتعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت:
	یاد رہے کہ حضور پرنور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ  اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہیں۔ حضوراقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰیعَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو اللہ تعالیٰ خود اپنا احسان قرار دیتا ہے جیسے فرمایا:
’’ لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَی الْمُؤۡمِنِیۡنَ اِذْ بَعَثَ فِیۡہِمْ رَسُوۡلًا ‘‘     (ال عمران: ۱۶۴)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اللہ نے ایمان والوں پر بڑا احسان فرمایا جب ان میں ایک رسول مبعوث فرمایا۔
 	اور وہ رسول بھی کیسے ہیں ؟ قرآن ، علمِ قرآن، فہمِ قرآن، اسرارِ قرآن، حکمت ، طہارتِ نفس، تزکیہ قلب، اصلاحِ ظاہر و باطن اور دنیاو آخرت کی ساری بھلائیاں دینے والے ہیں۔ اسی تطہیر و تزکیہ کو ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے: 
’’ خُذْ مِنْ اَمْوٰلِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَتُزَکِّیۡہِمۡ بِہَا ‘‘۔              (التوبہ:۱۰۳)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اے حبیب! تم ان کے مال سے زکوٰۃ وصول کرو جس سے تم انھیں ستھرا اور پاکیزہ کردو۔