Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
238 - 520
حسد انسان کو حق سے اندھا کر دیتا ہے:
	اس سے معلوم ہوا کہ حسد بڑی خبیث شے ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے آدمی حق سے اندھا ہوجاتا ہے اور جس کے سینہ میں حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا کینہ ہے وہ اس کے ہوتے ہوئے تو کبھی مرکر بھی ہدایت نہیں پاسکتا، ایسے شخص کوقرآن وحدیث ،معجزات اورعقلی و نقلی دلائل کچھ بھی مفید نہیں ہو سکتے کیونکہ دل کا دروازہ کھلتا ہی تب ہے جب حضور اکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بارے میں دل صاف ہو اور جس کا دل ہی ا س چیز سے صاف نہ ہو تو اسے ہدایت کس طرح مل سکتی ہے۔
{وَمَاۤ اَنۡتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَہُمْ: اور نہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرو۔}اس آیت میں یہودیوں کے قبلے کی پیروی سے منع کیا گیا ،اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اب قبلہ منسوخ نہ ہوگا لہٰذا اہل کتاب کو اب یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ان میں سے کسی کے قبلہ کی طرف رخ کریں گے۔
{وَمَا بَعْضُہُمۡ بِتَابِعٍ قِبْلَۃَ بَعْضٍ:اور وہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے قبلہ کے تابع نہیں ہیں۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اہل کتاب آپ کی مخالفت کرنے میں تو متفق ہیں لیکن قبلہ کے معاملے میں یہ خود بھی ایک دوسرے کے مخالف ہیں اور جس طرح ان سے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ آپ سے متفق ہو جائیں اسی طرح ان کے آپس میں متفق ہونے کی بھی کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔			  (مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ:  ۱۴۵، ص۸۵)
	یاد رہے کہ یہود و نصاریٰ دونوں بیت المقدس کو قبلہ مانتے ہیں مگر یہودی صَخرہ کو اور عیسائی اس کے مشرقی مکان کو قبلہ مانتے ہیں۔					(تفسیر عزیزی (مترجم)، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۲/۸۶۱-۸۶۲)
{وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَہۡوَآءَہُمۡ: اور اگر تو ان کی خواہشوں پر چلا۔} یہ امت کو خطاب ہے کہ خانہ کعبہ کے قبلہ ہونے کے بعد اگر کسی نے بیت المقدس کو قبلہ بنایا تو وہ ظالم ہے ۔
عالم کا گناہ زیادہ خطرناک ہے:
	 اس سے معلوم ہوا کہ عالم کا گناہ جاہل کے گناہ سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہاں بطورِ خاص علم کے بعد نافرمانی پر وعید بیان کی گئی ہے۔ حضرت زیاد بن حُدَیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عمر فاروق رَضِیَاللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: ’’ کیا جانتے ہو کہ اسلام کو کیا چیز ڈھاتی (یعنی اسلام کی عزت لوگوں کے دل سے دور کرتی) ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔آپ