Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
237 - 520
{لَیَعْلَمُوۡنَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنۡ رَّبِّہِمْ:وہ ضرور جانتے کہ یہ تبدیلی ان کے رب کی طرف سے حق ہے۔} یعنی قبلہ کی اس تبدیلی کے بارے میں اہلِ کتاب جانتے ہیں کہ یہ  اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق ہے کیونکہ ان کی کتابوں میں حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے اوصاف کے سلسلہ میں یہ بھی مذکور تھا کہ آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف پھریں گے اور ان کے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بشارتوں کے ساتھ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی یہ نشانی بتائی تھی کہ آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ بیت المقدس اور کعبہ دونوں قبلوں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں گے۔
وَلَئِنْ اَتَیۡتَ الَّذِیۡنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ بِکُلِّ اٰیَۃٍ مَّا تَبِعُوۡا قِبْلَتَکَۚ وَمَاۤ اَنۡتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَہُمْۚ وَمَا بَعْضُہُمۡ بِتَابِعٍ قِبْلَۃَ بَعْضٍؕ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَہۡوَآءَہُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِ مَا جَآءَکَ مِنَ الْعِلْمِۙ اِنَّکَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیۡنَ﴿۱۴۵﴾ۘ
ترجمۂکنزالایمان: اور اگر تم ان کتابیوں کے پاس ہر نشانی لے کر آ ؤ وہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہ کریں گے اور نہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرو اور وہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے قبلہ کے تابع نہیں اور (اے سننے والے کسے باشد) اگر تو ان کی خواہشوں پر چلا بعد اس کے کہ تجھے علم مل چکا تو اس وقت تو ضرور ستم گار ہوگا
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر تم ان کتابیوں کے پاس ہر نشانی لے آ ؤ تو بھی وہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہ کریں گے اور نہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرو اور وہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے قبلہ کے تابع نہیں ہیں اور (اے سننے والے!) اگر تیرے پاس علم آجانے کے بعد تو ان کی خواہشوں پر چلا تو اس وقت تو ضرورزیادتی کرنے والاہوگا۔
{وَلَئِنْ اَتَیۡتَ:اور اگر تم لے آؤ۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،جن اہل کتاب کے دلوں میں عناد اور سرکشی ہے ،آپ ان کے پاس قبلہ کی تبدیلی کے معاملے میں اپنی سچائی پر دلالت کرنے والی ہر نشانی لے آئیں تو بھی وہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے کیونکہ ان کا آپ کی پیروی نہ کرنا کسی شبہے کی وجہ سے نہیں جسے دلیل بیان کر کے زائل کیا جا سکے بلکہ وہ آپ سے عناد رکھنے اور حسد کرنے کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں حالانکہ وہ اپنی کتابوں میں موجود آپ کی یہ شان جانتے ہیں کہ (قبلہ کی تبدیلی معاملے میں ) آپ حق پر ہیں۔(روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ:  ۱۴۵، ۱/۲۵۱-۲۵۲، مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ:  ۱۴۵، ص۸۵، ملتقطاً)