Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
239 - 520
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:’’ اسلام کو عالم کی لغزش، منافق کا قرآن میں جھگڑنا اور گمراہ کن سرداروں کی حکومت تباہ کرے گی۔
(دارمی، باب فی کراہیۃ اخذ الرأی، ۱/۸۲، الحدیث: ۲۱۴)
	اس حدیث کی شرح میں مفتی احمد یار خاں نعیمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں : ’’جب علماء آرام طلبی کی بنا پر کوتاہیاں شروع کردیں ، مسائل کی تحقیق میں کوشش نہ کریں اور غلط مسئلے بیان کریں ،بے دین علماء کی شکل میں نمودار ہو جائیں ، بدعتوں کو سنتیں قرار دیں ،قرآن کریم کو اپنی رائے کے مطابق بنائیں اور گمراہ لوگوں کے حاکم بنیں اور لوگوں کو اپنی اطاعت پر مجبور کریں تب اسلام کی ہیبت دلوں سے نکل جائے گی جیسا کہ  آج ہورہا ہے۔ بعض نے فرمایا کہ عالم کی لغزش سے مراد ان کا فسق و فجور میں مبتلا ہوجانا ہے ۔       (مراٰ ۃ المناجیح، کتاب العلم، الفصل الثالث، ۱/۲۱۱، تحت الحدیث: ۲۵۰)
عالم کا جاہلوں کی خوشامد کرنا تباہی کا باعث ہے؟
	 نیزیہ بھی معلوم ہوا کہ عالم کا جاہلوں کی خوشامد کرنا اور ان کا تابع بن جانا تباہی کا باعث ہے ۔ علماء کو امراء سے دور ہی رہنا چاہیے تاکہ ان کی خوشامد نہ کرنی پڑے۔ حضرت عبد اللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے، رسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا کہ’’ میری امت کے کچھ لوگ دین سیکھیں گے اور قرآن پڑھیں گے اور کہیں گے کہ ہم امیروں کے پاس جائیں گے اوران کی دنیا لے آئیں گے البتہ اپنا دین بچالیں گے لیکن ایسا نہ ہو سکے گا جیسے ببول کے درخت سے کانٹے ہی چنے جاتے ہیں ایسے ہی امیروں کے قرب سے نقصان ہی ہوگا ۔(ابن ماجہ، کتاب السنۃ، باب الانتفاع بالعلم والعمل بہ، ۱/۱۶۶، الحدیث: ۲۵۵)
اَلَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الْکِتٰبَ یَعْرِفُوۡنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوۡنَ اَبْنَآءَہُمْؕ وَ اِنَّ فَرِیۡقًا مِّنْہُمْ لَیَکْتُمُوۡنَ الْحَقَّ وَہُمْ یَعْلَمُوۡنَ﴿۱۴۶﴾ؔ
ترجمۂکنزالایمان: جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی وہ اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے آدمی اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے اور بیشک ان میں ایک گروہ جان بوجھ کر حق چھپاتے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی ہے وہ اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور بیشک ان میں ایک گروہ جان بوجھ کر حق چھپاتے ہیں۔
{یَعْرِفُوۡنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوۡنَ اَبْنَآءَہُمْ: وہ اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔} مراد یہ ہے