’’وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی﴿۵﴾‘‘(والضحی:۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کیا خوب فرماتے ہیں :
تو جو چاہے تو ابھی میل میرے دل کے دھلیں کہ خدا دل نہیں کرتا کبھی میلا تیرا
اور فرماتے ہیں :
رضاؔ پل سے اب وجد کرتے گزریے کہ ہے رَبِّ سَلِّمْ صَدائے محمد
{وَحَیۡثُ مَا کُنۡتُمْ فَوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمْ شَطْرَہٗ: اور اے مسلمانو!تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرلو۔}یعنی اے مسلمانو! تم زمین کے جس حصے میں بھی ہواور وہاں نماز پڑھنے لگو تو اپنا منہ خانہ کعبہ کی طرف کر لو۔(مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۴۴، ص۸۴)
استقبالِ قبلہ سے متعلق چند ضروری مسائل:
اس آیت میں مسلمانوں کو قبلہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیاگیا، اس لئے یہاں نماز میں استقبالِ قبلہ سے متعلق چند مسائل ذکر کئے جاتے ہیں :
(1) … نما زمیں کعبہ شریف کی طرف منہ کرنا شرط ہے۔
(2)…جو شخص عین کعبہ کی سمت ِ خاص معلوم کر سکتا ہے،اگرچہ کعبہ آڑ میں ہو جیسے مکہ معظمہ کے مکانوں میں جب کہ مثلا چھت پر چڑھ کر کعبہ کو دیکھ سکتے ہیں تو عین کعبہ کی طرف منہ کرنا فرض ہے، جہت(کی طرف منہ کرنا) کافی نہیں اور جو شخص عین کعبہ کی سمت ِخاص معلوم نہیں کر سکتا اگرچہ وہ خاص مکہ معظمہ میں ہو اس کے لئے کعبہ کی جہت کی طرف منہ کرنا کافی ہے۔
(3) …کعبہ کی جہت کی طرف منہ ہونے کا معنی یہ ہے کہ منہ کی سطح کا کوئی جز کعبہ کی سمت میں واقع ہو ۔
(4)…اگر کسی شخص کو کسی جگہ قبلہ کی شناخت نہ ہو ،نہ کوئی ایسا مسلمان ہو جو بتا دے،نہ وہاں مسجدیں محرابیں ہیں ،نہ چاند ، سورج، ستارے نکلے ہوں یا نکلے تو ہوں مگر اس کو اتنا علم نہیں کہ ان سے قبلہ کی سمت معلوم کر سکے،تو ایسے کے لئے حکم ہے کہ وہ سوچے اور جدھر قبلہ ہونا دل پر جمے ادھر ہی منہ کرے،اس کے حق میں وہی قبلہ ہے۔ (بہار شریعت، نماز کی شرطوں کا بیان، ۱/۴۸۷-۴۸۹)
مزید تفصیل کے لئے بہار شریعت کے تیسرے حصے کا مطالعہ کریں۔