Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
235 - 520
فرماتے اور بلاشبہہ اللہ  تعالیٰ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی رضاچاہتا ہے۔ (جب نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ مدینہ منورہ تشریف لائے تو) اللہ تعالیٰ کا حکم یہ تھا کہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی جائے ، حضور پر نور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ تابع فرمان تھے اور یہ حضور اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھی مگر آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا قلب اقدس یہ چاہتا تھا کہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی جائے ،اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی مرضی مبارک کے لئے اپنا وہ حکم منسوخ فرمادیا اور حضور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ جو چاہتے تھے قیامت تک کے لئے وہ ہی قبلہ مقرر فر مادیا، یہ اللہ  تعالیٰ کی طرف سے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی رضاجوئی ہے، ان میں سے جس کا انکار ہو گا تو وہ قرآن عظیم کا انکار ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے عرض کرتی ہیں ’’مَا اُرٰی رَبَّکَ اِلاَّ یُسَارِعُ فِی ہَوَاکَ‘‘ میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے رب عَزَّوَجَلَّ کو دیکھتی ہوں کہ وہ حضور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خواہش پوری کرنے میں جلدی فرماتا ہے۔(بخاری، کتاب التفسیر، باب ترجی من تشاء منہن۔۔۔ الخ، ۳/ ۳۰۳، الحدیث: ۴۷۸۸)
	حدیثِ روز محشر میں ہے ،ربعَزَّوَجَلَّ اولین وآخرین کو جمع کرکے حضور اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے فرمائے گا:’’کُلُّھُمْ یَطْلُبُوْنَ رِضَائِیْ وَاَنَااَطْلُبُ رِضَاکَ یَامُحَمَّدْ‘‘ یہ سب میری رضاچاہتے ہیں اور اے محبوب! میں تمہاری رضا چاہتا ہوں۔ 					( فتاوی رضویہ،۱۴/۲۷۵-۲۷۶، ملخصاً)
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم		 خدا چاہتا ہے رضائے محمد
	نیز جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خوشی کیلئے تا قیامت کعبہ کو مسلمانوں کا قبلہ بنادیا،اسی طرح آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خوشی کیلئے آپ کی امت پر پچاس نمازوں کو کم کرکے پانچ فرض کی گئیں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خوشی کیلئے بدر و حنین میں فرشتے اترے۔ آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خوشی کیلئے معراج کی سیر کرائی گئی۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خوشی کیلئے امتیو ں کے گناہ معاف ہوں گے۔ آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خوشی کیلئے آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو حوضِ کوثر عطا ہوا۔ آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خوشی کے لئے امتیوں کی نیکیوں کے پلڑے بھاری ہوں گے، پل صراط سے سلامتی سے گزریں گے اور جنت میں داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: