اور ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں اور ہم خالص اسی کے ہیں۔
{اَتُحَآجُّوۡنَنَا: کیا تم ہم سے جھگڑتے ہو۔} یہودیوں نے مسلمانوں سے کہا کہ ہم پہلی کتاب والے ہیں ، ہمارا قبلہ پرانا ہے، ہمارا دین قدیم ہے، انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہم میں سے ہوئے ہیں لہٰذا اگر محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نبی ہوتے تو ہم میں سے ہی ہوتے ۔اس پر یہ آیت ِمبارکہ نازل ہوئی، (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۳۹، ۱/۹۶، روح المعانی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۳۹، ۱/۵۴۲، ملتقطاً)
اور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ذریعے ان سے فرمایا گیا کہ ہمارا اور تمہارا سب کا رب اللہ تعالیٰ ہے ،اسے اختیار ہے کہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے نبی بنائے، عرب میں سے ہو یا دوسروں میں سے۔
{وَنَحْنُ لَہٗ مُخْلِصُوۡنَ: اور ہم خالص اسی کے ہیں۔}یعنی ہم کسی دوسرے کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک نہیں کرتے اور عبادت و طاعت خالص اسی کے لئے کرتے ہیں تو عزت کے مستحق ہیں۔نیز خالص اللہ تعالیٰ کا وہی ہوتا ہے جو اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا ہو جائے اورجو رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا ہو گیا وہ اللہ تعالیٰ کا ہو گیا۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے:
’’مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ ‘‘(النساء: ۸۰)
ترجمۂکنزالعرفان: جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں :
جو کہ اس در کا ہواخلقِ خدا اس کی ہوئی جو کہ اس در سے پھرا اللہ ہی سے پھر گیا
اَمْ تَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ اِبْرٰہٖمَ وَ اِسْمٰعِیۡلَ وَ اِسْحٰـقَ وَیَعْقُوۡبَ وَالۡاَسْبَاطَ کَانُوۡا ہُوۡدًا اَوْ نَصٰرٰیؕ قُلْ ءَاَنۡتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللہُؕ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنۡ کَتَمَ شَہٰدَۃً عِنۡدَہٗ مِنَ اللہِؕ وَمَا اللہُ بِغٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوۡنَ﴿۱۴۰﴾
ترجمۂکنزالایمان:بلکہ تم تویوں کہتے ہو کہ ابراہیم و اسمٰعیل و اسحاق و یعقوب اور ان کے بیٹے یہودی یا نصرانی تھے، تم فرماؤ کیا تمہیں علم زیادہ ہے یا اللہ کو اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جس کے پاس اللہ کی طرف کی گواہی ہو اور وہ اسے