Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
222 - 520
{فَسَیَکْفِیۡکَہُمُ اللہُ: تو عنقریب اللہتمہیں ان کی طرف سے کفایت فرمائے گا۔} یہ اللہ  تعالیٰ کی طرف سے ذمہ ہے کہ وہ اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو غلبہ عطا فرمائے گا اور اس میں غیب کی خبربھی ہے کہ آئندہ حاصل ہونے والی فتوحات کا پہلے سے اظہار فرمایا۔ چنانچہ اللہ  تعالیٰ کا یہ ذمہ پورا ہوا اور یہ غیبی خبر صادق ہو کر رہی، کفار کے حسد و دشمنی اور ان کی مکاریوں سے حضورپر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو کوئی ضرر نہ پہنچا۔ حضور اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو فتح نصیب ہوئی، بنی قُرَیْظَہ قتل ہوئے جبکہ بنی نَضِیْر جلا وطن کئے گئے اوریہود ونصاریٰ پر جزیہ مقرر ہوا۔
صِبْغَۃَ اللہِۚ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللہِ صِبْغَۃً۫ وَّنَحْنُ لَہٗ عٰبِدُوۡنَ﴿۱۳۸﴾
ترجمۂکنزالایمان:ہم نے اللہ کی رینی لی اور اللہ سے بہتر کس کی رینی اور ہم اسی کو پوجتے ہیں۔
ترجمۂکنزالعرفان:ہم نے اللہ کا رنگ اپنے اوپر چڑھالیا اور اللہ کے رنگ سے بہتر کس کا رنگ ہے؟اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔
{صِبْغَۃَ اللہِ: اللہ کا رنگ۔}جس طرح رنگ کپڑے کے ظاہر وباطن میں سرایت کرجاتا ہے اس طرح اللہ تعالیٰ کے دین کے سچے عقائد ہمارے رگ و پے میں سما گئے ہیں ،ہمارا ظاہر و باطن اس کے رنگ میں رنگ گیا ہے۔ہمارا رنگ ظاہری رنگ نہیں جو کچھ فائدہ نہ دے بلکہ یہ نفوس کو پاک کرتا ہے۔ ظاہر میں اس کے آثار ہمارے اعمال سے نمو دار ہوتے ہیں۔ عیسائیوں کا طریقہ تھا کہ جب اپنے دین میں کسی کو داخل کرتے یا ان کے یہا ں کوئی بچہ پیدا ہوتا تو پانی میں زرد رنگ ڈال کر اس میں اس شخص یا بچہ کو غوطہ دیتے اور کہتے کہ اب یہ سچا عیسائی ہوگیا ۔اس کا اس آیت میں رد فرمایا کہ یہ ظاہری رنگ کسی کام کا نہیں۔
قُلْ اَتُحَآجُّوۡنَنَا فِی اللہِ وَہُوَ رَبُّنَا وَرَبُّکُمْۚ وَلَنَاۤ اَعْمٰلُنَا وَلَکُمْ اَعْمٰلُکُمْۚ وَنَحْنُ لَہٗ مُخْلِصُوۡنَ﴿۱۳۹﴾ۙ
ترجمۂکنزالایمان:تم فرماؤ کیا اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو حالانکہ وہ ہمارا بھی مالک اور تمہارا بھی اور ہماری کرنی ہمارے ساتھ اور تمہاری کرنی تمہارے ساتھ اور ہم نِرے اسی کے ہیں۔
ترجمۂکنزالعرفان:تم فرماؤ:کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو حالانکہ وہ ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی