Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
224 - 520
چھپائے اور خدا تمہارے کوتکوں سے بے خبر نہیں۔
ترجمۂکنزالعرفان:(اے اہلِ کتاب!)کیاتم یہ کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد یہودی یا نصرانی تھے۔ تم فرماؤ: کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جس کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں۔
{اَمْ تَقُوۡلُوۡنَ: کیا تم کہتے ہو۔} یہودی کہتے تھے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام یہودی تھے اورعیسائی کہتے تھے کہ عیسائی تھے ان کی تردید میں یہ آیت اتری کہ یہودیت و عیسائیت تو ان کے بعد دنیا میں آئیں وہ کیسے اس دین پر ہوئے؟
{وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنۡ: اور اس سے بڑھ کر ظالم کون؟}اللہ تعالیٰ کی گواہی کو چھپانے والا بڑا ظالم ہے اور یہ یہودیوں کا حال ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی شہادتیں چھپائیں جو توریت شریف میں مذکور تھیں کہ محمد مصطفی  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اس کے نبی ہیں اور ان کے یہ اوصاف ہیں اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مسلمان ہیں اورد ینِ مقبول اسلام ہے نہ کہ یہودیت و نصرانیت۔ اب بھی بہت سے لوگ ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں لیکن حضور انور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی عظمت و شان کی آیتوں کو چھپاتے ہیں ، اور انہیں عوام کے سامنے بیان نہیں کرتے۔ 
تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْۚ لَہَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُمۡ مَّا کَسَبْتُمْۚ وَلَا تُسْـَٔلُوۡنَ عَمَّا کَانُوۡا یَعْمَلُوۡنَ﴿۱۴۱﴾٪
ترجمۂکنزالایمان:وہ ایک گروہ ہے کہ گزر گیا ان کے لئے ان کی کمائی اور تمہارے لئے تمہاری کمائی اور ان کے کاموں کی تم سے پرسش نہ ہوگی۔
ترجمۂکنزالعرفان:وہ ایک امت ہے جو گزرچکی ہے ۔ان کے اعمال ان کے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں اور تم سے اُن کے کاموں کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔ 
{تِلْکَ اُمَّۃٌ:وہ ایک امت ہے۔}اس آیت میں یہودیوں کو ایک بار پھر تنبیہ کی گئی کہ تم اپنے اسلاف کی فضیلت پر بھروسہ نہ کرو کیونکہ ہر ایک سے اسی کے اعمال کی پوچھ گچھ کی جائے گی۔	    (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۴۱، ۱/۹۶)
	اس میں ان مسلمانوں کے لئے بھی نصیحت ہے جو اپنے ماں باپ یا پیرو مرشد وغیرہ کے نیک اعمال پر بھروسہ کر کے خود نیکیوں سے دور اور گناہوں میں مصروف ہیں۔