{قُوۡلُوۡۤا: تم کہو۔}یہاں انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے متعلق چند باتیں یاد رکھیں :
(1)…تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور تمام کتابوں پر ایمان لانا ضروری ہے، جو کسی ایک نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام یا ایک کتاب کا بھی انکار کرے وہ کافر ہے، البتہ انبیاء کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تعداد مقرر نہ کی جائے کیونکہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تعداد کسی قطعی دلیل سے ثابت نہیں۔
(2)… انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے درجوں میں فرق ہے جیسا کہ تیسرے پارے کے شروع میں ہے مگر ان کی نبوت میں فرق نہیں۔
(3)…انبیاء کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں فرق کرنے سے منع کیا گیا ہے وہ اس طرح ہے کہ بعض نبیوں کو مانیں اور بعض کا انکار کریں۔
(4)… یہ بھی معلوم ہوا کہ سارے نبی نبوت میں یکساں ہیں ،کوئی عارضی، ظلی یا بروزی نبی نہیں جیسے قادیانیکہتے ہیں بلکہ سب اصلی نبی ہیں۔
فَاِنْ اٰمَنُوۡا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنۡتُمۡ بِہٖ فَقَدِ اہۡتَدَوۡاۚ وَ اِنۡ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا ہُمْ فِیۡ شِقَاقٍۚ فَسَیَکْفِیۡکَہُمُ اللہُۚ وَہُوَ السَّمِیۡعُ الْعَلِیۡمُ﴿۱۳۷﴾ؕ
ترجمۂکنزالایمان:پھر اگر وہ بھی یونہی ایمان لائے جیسا تم لائے جب تو وہ ہدایت پاگئے اور اگر منہ پھیریں تو وہ نری ضد میں ہیں تو اے محبوب عنقریب اللہ ان کی طرف سے تمہیں کفایت کرے گا اور وہی ہے سنتا جانتا۔
ترجمۂکنزالعرفان:پھر اگر وہ بھی یونہی ایمان لے آئیں جیسا تم ایمان لائے ہو جب تو وہ ہدایت پاگئے اور اگر منہ پھیریں تو وہ صرف مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں۔ تو اے حبیب!عنقریب اللہ ان کی طرف سے تمہیں کافی ہوگا اور وہی سننے والا جاننے والاہے۔
{بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنۡتُمۡ بِہٖ: تمہارے ایمان کی طرح۔} یہودیوں کو صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی طرح ایمان لانے کا فرمایا:،اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا ایمان بارگاہِ الٰہی میں معتبر اور دوسروں کیلئے مثال ہے۔