نصرانی ہونے کو کہا تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (روح المعانی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۳۵، ۱/۵۳۵-۵۳۶)
{بَلْ مِلَّۃَ اِبْرٰہٖمَ: بلکہ ابراہیم کا دین۔}ارشاد فرمایا کہ اے حبیب !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،آپ یہودیوں اور عیسائیوں کو جواب دے دیں کہ جب کسی کی پیروی ضروری ہے تو ہم حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے دین کی پیروی کرتے ہیں جو کہ تمام فضائل کا جامع ہے اور حضرت ابراہیمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہر باطل سے جدا تھے اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔اس میں اشارۃً یہودیوں ،عیسائیوں اور ان تمام لوگوں کا رد کر دیا گیا جو مشرک ہونے کے باوجود ملت ابراہیمی کی پیروی کا دعویٰ کرتے تھے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو ابراہیمی بھی کہتے ہیں اور شرک بھی کرتے ہیں حالانکہ ابراہیمی وہ ہے جو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دین پر ہو اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مشرک نہ تھے جبکہ تم مشرک ہو تو ابراہیمی کیسے ہو گئے۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۳۵، ۱/۹۴، ملخصاً)
اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے، ایک یہ کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو رب تعالیٰ نے وہ مقبولیت عامہ بخشی ہے کہ ہر دین والا ان کی نسبت پر فخر کرتا ہے۔ دوسرا یہ کہ صرف بڑوں کی اولاد ہونا کافی نہیں جب تک بڑوں کے سے کام نہ کرے۔
قُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا بِاللہِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡنَا وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلٰۤی اِبْرٰہٖمَ وَ اِسْمٰعِیۡلَ وَ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوۡبَ وَالۡاَسْبَاطِ وَمَاۤ اُوۡتِیَ مُوۡسٰی وَعِیۡسٰی وَمَاۤ اُوۡتِیَ النَّبِیُّوۡنَ مِنۡ رَّبِّہِمْۚ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنْہُمْ۫ وَنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوۡنَ﴿۱۳۶﴾
ترجمۂکنزالایمان:یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم و اسمٰعیل و اسحاق و یعقوب اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسٰی و عیسیٰ اور جو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں۔
ترجمۂکنزالعرفان:(اے مسلمانو!) تم کہو: ہم اللہ پر اور جو ہماری طرف نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان لائے اور اس پر جو ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد کی طرف نازل کیا گیا اور موسٰی اور عیسیٰ کو دیا گیا اور جو باقی انبیاء کو ان کے رب کی طرف سے عطا کیا گیا۔ ہم ایمان لانے میں ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہوئے ہیں۔