ان کے کاموں کی تم سے پرسش نہ ہوگی۔
ترجمۂکنزالعرفان:وہ ایک امت ہے جو گزرچکی ہے ۔ان کے اعمال ان کے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں اور تم سے اُن کے کاموں کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔
{تِلْکَ اُمَّۃٌ: وہ ایک امت ہے۔} جب یہودی دلائل میں عاجز ہو جاتے تو آخر کار کہہ دیتے تھے کہ اگر ہمارے عقائد و اعمال غلط بھی ہوئے تو ہمارے باپ داداؤں کے اعمال ہمارے کام آجائیں گے اور ان سے ہماری نجات ہو جائے گی، ان کی تردید میں یہ آیت آئی کہ وہ سب گزرچکے ۔ان کے اعمال ان کے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے۔ تمہیں ان کے اعمال کام نہ آئیں گے۔اس سے معلوم ہوا کہ آخرت میں اپنے اعمال کام آئیں گے اور اگر عقیدہ خراب ہو تو کسی کو دوسرے کے عمل سے فائدہ نہ ہوگا۔
وَقَالُوۡا کُوۡنُوۡا ہُوۡدًا اَوْ نَصٰرٰی تَہۡتَدُوۡاؕ قُلْ بَلْ مِلَّۃَ اِبْرٰہٖمَ حَنِیۡفًاؕ وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیۡنَ﴿۱۳۵﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور کتابی بولے یہودی یا نصرانی ہوجاؤ راہ پاؤگے تم فرماؤ بلکہ ہم تو ابراہیم کا دین لیتے ہیں جو ہر باطل سے جدا تھے اور مشرکوں سے نہ تھے۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور اہلِ کتاب نے کہا: یہودی یا نصرانی ہوجاؤہدایت پاجاؤگے۔ تم فرماؤ:(ہرگز نہیں ) بلکہ ہم تو ابراہیم کا دین اختیار کرتے ہیں جو ہر باطل سے جدا تھے اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔
{کُوۡنُوۡا: ہوجاؤ۔} حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے فرمایا کہ یہ آیت مدینہ کے یہودی سرداروں اور نجران کے عیسائیوں کے جواب میں نازل ہوئی۔ یہودیوں نے تو مسلمانوں سے یہ کہا تھا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں سب سے افضل ہیں اور توریت تمام کتابوں سے افضل ہے اور یہودی دین تمام ادیان سے اعلیٰ ہے، اس کے ساتھ انہوں نے حضرت سید ِکائنات محمد مصطفیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، انجیل شریف اور قرآن شریف کے ساتھ کفر کرکے مسلمانوں سے کہا تھا کہ یہودی بن جاؤ اسی طرح نصرانیوں نے بھی اپنے ہی دین کو حق بتا کر مسلمانوں سے