{وَوَصّٰی: اور وصیت کی۔} حضرت ابراہیم اورحضرت یعقوب عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی اولاد کو دینِ حق پر ثابت قدمی کی وصیت فرمائی۔
اولاد کو صحیح عقائد اور نیک اعمال کی وصیت کرنی چاہئے:
اس سے معلوم ہوا کہ والدین کوصرف مال کے متعلق ہی وصیت نہیں کرنی چاہیے بلکہ اولاد کو عقائد ِ صحیحہ، اعمالِ صالحہ، دین کی عظمت، دین پر استقامت، نیکیوں پر مداومت اور گناہوں سے دور رہنے کی وصیت بھی کرنی چاہیے۔ اولاد کو دین سکھانا اور ان کی صحیح تربیت کرتے رہنا والدین کی ذمہ داری ہے۔ جیساکہ حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:’’اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرو اور انہیں اچھے ادب سکھانے کی کوشش کرو۔ (ابن ماجہ، کتاب الادب، باب بر الوالد والاحسان الی البنات، ۴/۱۸۹-۱۹۰، الحدیث: ۳۶۷۱)
حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے ایک شخص سے فرمایا:’’اپنے بچے کی اچھی تربیت کرو کیونکہ تم سے تمہاری اولاد کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ تم نے اس کی کیسی تربیت کی اور تم نے اسے کیا سکھایا۔
(شعب الایمان، الستون من شعب الایمان وہو باب فی حقوق الاولاد والاھلین، ۶/۴۰۰، الحدیث: ۸۶۶۲)
حضرت ایوب بن موسیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاپنے والد سے اور وہ اپنے داد اسے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ کسی باپ نے اپنے بچے کو ایسا عطیہ نہیں دیا جو اچھے ادب سے بہتر ہو۔
(ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء فی ادب الولد، ۳/۳۸۳، الحدیث: ۱۹۵۹)
مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اچھے ادب سے مراد بچے کو دیندار،متقی،پرہیزگار بنانا ہے۔اولاد کے لئے اس سے اچھا عطیہ کیا ہو سکتا ہے کہ یہ چیز دین و دنیا میں کام آتی ہے ۔ماں باپ کو چاہئے کہ اولاد کو صرف مالدار بنا کر دنیا سے نہ جائیں انہیں دیندار بنا کر جائیں جو خود انہیں بھی قبر میں کام آوے کہ زندہ اولاد کی نیکیوں کا ثواب مردہ کوقبر میں ملتا ہے۔(مراٰۃ المناجیح، باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق، الفصل الثانی، ۶/۴۲۰، تحت الحدیث: ۴۷۵۶)
نیزوفات کے وقت اپنی اولاد کو صحیح عقائد اور نیک اعمال کی وصیت کرنا ہمارے بزرگان دین کاطریقہ رہا ہے، چنانچہ حضرت عطا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’ میں صحابی رسول حضرت ولید بن عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے ملا اور ان سے پوچھا کہ آپ کے والد نے وصال کے وقت کیا وصیت فرمائی؟حضرت ولیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: