فرمایا ہے کہ میں اولادِ اسمٰعیل سے ایک نبی پیدا کروں گا جن کا نام احمد ہوگا ،جو اُن پر ایمان لائے گا وہ کامیاب ہے اور جو ایمان نہ لائے گا وہ ملعون ہے۔یہ سن کر سلمہ ایمان لے آئے اور مہاجر نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا ۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ظاہر کردیا کہ جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے خود اس رسول معظم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے مبعوث ہونے کی دعا فرمائی تو جواُن کے دین سے پھرے وہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دین سے پھرا۔ اس میں یہود و نصاریٰ اور مشرکینِ عرب پر اشارۃً کلام ہے جو اپنے آپ کوفخر کے طور پر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف منسوب کرتے تھے کہ جب یہ لوگ دین ابراہیمی سے پھر گئے تو پھر ان کی عظمت و شرافت کہاں رہی۔(جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۳۰، ۱/۱۶۱-۱۶۲)
یہ بھی معلوم ہوا کہ سچے دین کی پہچان یہ ہے کہ وہ سلف صالحین کا دین ہو، یہ حضرات ہدایت کی دلیل ہیں ، اللہ تعالیٰ نے حقانیت اسلام کی دلیل یہاں دی کہ وہ ملت ابراہیمی ہے۔
{اصْطَفَیۡنٰہُ: ہم نے اسے چن لیا۔} اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو رسالت و خُلت کیلئے چن لیا یعنی آپ کواپنا رسول اور خلیل بنایا۔
اِذْ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗۤ اَسْلِمۡۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ﴿۱۳۱﴾ وَوَصّٰی بِہَاۤ اِبْرٰہٖمُ بَنِیۡہِ وَیَعْقُوۡبُؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللہَ اصْطَفٰی لَکُمُ الدِّیۡنَ فَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡتُمۡ مُّسْلِمُوۡنَ﴿۱۳۲﴾
ترجمۂکنزالایمان:جب کہ اس سے اس کے رب نے فرمایا گردن رکھ عرض کی میں نے گردن رکھی اس کے لئے جو رب ہے سارے جہان کا۔اور اسی دین کی وصیت کی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے کہ اے میرے بیٹوبیشک اللہ نے یہ دین تمہارے لئے چن لیا تو نہ مرنا مگر مسلمان۔
ترجمۂکنزالعرفان:یاد کروجب اس کے رب نے اسے فرمایا:فرمانبرداری کر، تو اس نے عرض کی: میں نے فرمانبرداری کی اس کی جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ اورابراہیم اور یعقوب نے اپنے بیٹوں کو اسی دین کی وصیت کی کہ اے میرے بیٹو!بیشک اللہ نے یہ دین تمہارے لئے چن لیاہے توتم ہرگز نہ مرنا مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔