’’(میرے والد نے) مجھے بلا کر فرمایا:’’اے بیٹے! اللہ تعالیٰ سے ڈر اور یہ بات جان لے کہ تو اللہ عَزَّوَجَلَّسے اس وقت تک ڈرنے والا نہیں بنے گا جب تک اللہ تعالیٰ پر اور ہر خیر و شر کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہونے پر ایمان نہ لائے گا اگر تو اس کے خلاف پر مر گیا تو جہنم میں داخل ہو گا۔میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اورپھر فرمایا:’’لکھ۔قلم نے عرض کی: کیا لکھوں ؟ارشاد فرمایا:’’تقدیر کو لکھ جو ہو چکا اورجو ابد تک ہو گا۔ (ترمذی، کتاب القدر، ۱۷- باب، ۴/۶۲، الحدیث: ۲۱۶۲)
جب حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان کے بیٹے حضرت عبد الرحمن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی :مجھے کچھ وصیت کیجئے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:’’میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، زیادہ وقت اپنے گھر میں رہو، اپنی زبان کی حفاظت کرو اور اپنی خطاؤں پر رویا کرو۔
(شعب الایمان، الحادی عشر من شعب الایمان وہو باب فی الخوف من اللہ تعالی، ۱/۵۰۳، الحدیث: ۸۴۴)
حضرت علقمہ عطاردی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اپنی وفات کے وقت اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: ’’اے بیٹے! جب تمہیں لوگوں کی مجلس اختیار کرنا پڑے تو ایسے آدمی کی صحبت اختیار کر کہ جب تو ا س کی خدمت کرے تو وہ تیری حفاظت کرے،اگر تو ا س کی مجلس اختیار کرے تو وہ تجھے زینت دے،اگر تجھے کوئی مشقت پیش آئے تو وہ برداشت کرے، اس آدمی کی صحبت اختیار کر کہ جب تو بھلائی کے ساتھ اپناہاتھ پھیلائے تو وہ بھی اسے پھیلائے،اگر وہ تم میں کوئی اچھائی دیکھے تو اسے شمار کرے اور اگر برائی دیکھے تو اسے روکے۔اس آدمی سے دوستی اختیار کر کہ جب تو ا س سے مانگے تو وہ تجھے دے اور اگر خاموش رہے تو خود بخود دے،اگر تجھے کوئی پریشانی لاحق ہو تو وہ غمخواری کرے۔اُس آدمی کی صحبت اختیار کرو کہ جب تم بات کہو تو وہ تمہاری بات کی تصدیق کرے ،اگر تم کسی کام کا ارادہ کرو تو وہ اچھا مشورہ دے اور اگر تم دونوں میں اختلاف ہو جائے تو وہ تمہاری بات کو ترجیح دے۔ (احیاء العلوم، کتاب آداب الالفۃ والاخوۃ۔۔۔ الخ، ۲/۲۱۴)
اَمْ کُنۡتُمْ شُہَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوۡبَ الْمَوْتُۙ اِذْ قَالَ لِبَنِیۡہِ مَا تَعْبُدُوۡنَ مِنۡۢ بَعْدِیۡؕ قَالُوۡا نَعْبُدُ اِلٰہَکَ وَ اِلٰـہَ اٰبَآئِکَ اِبْرٰہٖمَ وَ اِسْمٰعِیۡلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰـہًا وّٰحِدًاۚۖ وَّنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوۡنَ﴿۱۳۳﴾