Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
214 - 520
آیت’’وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:
	 اس آیت سے صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکی بھی شان معلوم ہوئی کہ حضوراکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے جن کو کتاب وحکمت سکھائی اور جنہیں پاک و صاف کیا ان کے اولین مصداق صحابہ ہی تو تھے۔نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ پورا  قرآن آسان نہیں ورنہ اس کی تعلیم کے لئے حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنہ بھیجے جاتے۔ جو کہے کہ قرآن سمجھنا بہت آسان ہے اسے کسی بڑے عالم کے پاس لے جائیں ، پندرہ منٹ میں حال ظاہر ہوجائے گا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن کے ساتھ حدیث کی بھی ضرورت ہے۔ ’’الْحِکْمَۃَ‘‘ کا ایک معنیٰ سنت بھی کیا گیاہے جیسا کہ مشہور مفسرحضرت قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ حکمت سنت ہی ہے۔
(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۹، ۱/۹۲)
{وَیُزَکِّیۡہِمْ:  اور انہیں خوب پاکیزہ فرمادے۔} ستھرا کرنے کے یہ معنی ہیں کہ نفس کو گناہوں کی آلودگیوں ، شہوات و خواہشات کی آلائشوں اور ارواح کی کدورتوں سے پاک و صاف کرکے آئینہ دل کو تجلیات و انوارِ الٰہیہ دیکھنے کے قابل کردیں تاکہ اسرارِ الٰہی اور انوارِ باری تعالیٰ اس میں جلوہ گر ہوسکیں۔ تمام غوث، قطب، ابدال،اولیاء ، اصفیائ، صوفیائ، فقہاء و علماء کا تزکیہ اِسی مقدس بارگاہ سے ہوتا ہے۔ اعلی حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :
آسماں خواں ، زمیں خواں ، زمانہ مہماں 		 صاحب ِ خانہ لقب کس کا ہے آقا تیرا
وَمَنۡ یَّرْغَبُ عَنۡ مِّلَّۃِ اِبْرٰہٖمَ اِلَّا مَنۡ سَفِہَ نَفْسَہٗؕ وَلَقَدِ اصْطَفَیۡنٰہُ فِی الدُّنْیَاۚ وَ اِنَّہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیۡنَ﴿۱۳۰﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور ابراہیم کے دین سے کون منہ پھیرے سوا اس کے جو دل کا احمق ہے اور بیشک ضرور ہم نے دنیا میں اسے چن لیا اور بیشک وہ آخرت میں ہمارے خاص قرب کی قابلیت والوں میں ہے۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور ابراہیم کے دین سے وہی منہ پھیرے گا جس نے خود کواحمق بنا رکھا ہو اور بیشک ہم نے اسے دنیا میں چن لیا اور بیشک وہ آخرت میں ہمارا خاص قرب پانے والوں میں سے ہے۔
{وَمَنۡ یَّرْغَبُ: اور جو منہ پھیرے۔} علمائِ یہود میں سے حضرت عبداللہبن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسلام لانے کے بعد اپنے دو بھتیجوں مہاجر و سلمہ کو اسلام کی دعوت دی اور ان سے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ اللہ  تعالیٰ نے توریت میں