Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
199 - 520
ہیں۔ ذکر اللہ کو منع کرنا ہر جگہ ہی برا ہے لیکن مسجدوں میں خصوصا زیادہ برا ہے کہ وہ تو اسی کام کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ مسجد کو کسی بھی طرح ویران کرنے والا ظالم ہے۔ بلاوجہ لوگوں کو مسجد میں آنے یا مسجد کی تعمیر سے روکنے والا، مسجد یا اس کے کسی حصے پرقبضہ کرنے والا، مسجد کو ذاتی استعمال میں لے لینے والا، مسجد کے کسی حصے کو مسجد سے خارج کرنے والا یہ سب لوگ اس آیت کی وعید میں داخل ہیں۔ تفصیل کیلئے فتاویٰ رضویہ شریف کے کتاب الوقف کا مطالعہ کریں۔البتہ یہ یاد رہے کہ  جنبی (یعنی جس پر غسل فرض ہو)، منہ کی بدبو والے ، لہسن پیازوغیرہ بدبودار چیزوں کی بو جس کے منہ سے آرہی ہو اسے روکنااس میں داخل نہیں کہ یہ حقیقت میں مسجد سے تکلیف دہ یا نامناسب چیزوں کو دور کرنے کے حکم میں آتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ مسجد کے نزدیک دوسری مسجد اس نیت سے بنانا کہ پہلی مسجد ویران ہو جائے حرام ہے کہ یہ بھی مسجد کی ویرانی میں کوشش کرنا ہے البتہ اگر کوئی مسجد بنائے تو اس کی نیت پر ہم حکم نہیں لگا سکتے ہیں کہ اس نے بری نیت سے ہی مسجد بنائی ہے۔ 
{اِلَّا خَآئِفِیۡنَ: مگر ڈرتے ہوئے۔} مسجد میں ادب و تعظیم اور خوف ِ خدا کے ساتھ داخل ہونا چاہیے، نڈر و بیباک ہو کر اور آداب ِ مسجد کو پامال کرتے ہوئے داخل ہونا مسلمان کا کام نہیں۔ 
{فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ: دنیا میں رسوائی۔} بیت المقدس ویران کرنے والوں کو دنیا میں یہ رسوائی پہنچی کہ قتل کئے گئے، گرفتار ہوئے، جلا وطن کئے گئے۔ خلافت فاروقی و عثمانی میں ملک ِشام ان کے قبضہ سے نکل گیا اور بیت المقدس سے ذلت کے ساتھ نکالے گئے۔ مسجدوں اور مسجدوں سے تعلق رکھنے والوں سے نفرت کرنے والوں کویہ وعید اپنے پیشِ نظر رکھنی چاہیے۔ 
وَ لِلہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ٭ فَاَیۡنَمَا تُوَلُّوۡا فَثَمَّ وَجْہُ اللہِؕ اِنَّ اللہَ وٰسِعٌ عَلِیۡمٌ﴿۱۱۵﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور پورب پچھم سب اللہ ہی کا ہے تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ  اللہ  (خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ) ہے بیشک اللہ وسعت والا علم والا ہے۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور مشرق و مغرب سب اللہ ہی کا ہے تو تم جدھر منہ کرو ادھر ہی اللہ کی رحمت تمہاری طرف متوجہ ہے۔ بیشک اللہ وسعت والا علم والا ہے۔
{وَ لِلہِ: اور اللہ ہی کیلئے ہے۔}اس آیت کے بہت سے شانِ نزول بیان کئے گئے ہیں۔
(1)…ایک مرتبہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمتاریک رات میں سفر میں تھے،قبلہ کی سمت معلوم نہ ہوسکی، ہر شخص نے