جھٹلانا شروع کردیا اور کہنے لگے کہ دین کچھ نہیں۔ انہیں جاہلوں میں سے مشرکین عرب بھی ہیں جنہوں نے نبی کر یم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اورآپ کے دین کے بارے ایسے ہی کلمات کہے۔
وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنۡ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللہِ اَنۡ یُّذْکَرَ فِیۡہَا اسْمُہٗ وَسَعٰی فِیۡ خَرَابِہَاؕ اُولٰٓئِکَ مَا کَانَ لَہُمْ اَنۡ یَّدْخُلُوۡہَاۤ اِلَّا خَآئِفِیۡنَ۬ؕ لَہُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّلَہُمْ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ﴿۱۱۴﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لئے جانے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگاجو اللہ کی مسجدوں کو اس بات سے روکے کہ ان میں اللہ کا نام لیا جائے اور ان کو ویران کرنے کی کوشش کرے۔انہیں مسجدوں میں داخل ہونا مناسب نہ تھا مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔
{وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنۡ: اور اس سے بڑھ کر ظالم کون۔} یہ آیت بیت المقدس کی بے حرمتی کے متعلق نازل ہوئی جس کا مختصر واقعہ یہ ہے کہ روم کے عیسائیوں نے یہودیوں پر حملہ کرکے ان کے جنگجووں کو قتل کردیا، ان کے بیوی بچوں کو قید کرلیا، توریت کو جلادیا، بیت المقدس کو ویران کردیا، اس میں نجاستیں ڈالیں ، خنزیر ذبح کیے، یوں بیت المقدس خلافت ِفاروقی تک اسی ویرانی میں رہا۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے عہد مبارک میں مسلمانوں نے اسے بنایا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت مشرکین مکہ کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے ابتدائے اسلام میں حضور سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اور آپ کے اصحاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عنہم کو کعبہ میں نماز پڑھنے سے روکا تھا اور صلح حدیبیہ کے وقت اس میں نماز و حج سے منع کیا تھا۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۴، ۱/۸۱)
{اَنۡ یُّذْکَرَ: کہ ذکر کیا جائے۔} ذکر میں نماز، خطبہ، تسبیح ،وعظ، نعت شریف اور صالحین کے حالات کا بیان سب داخل