Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
195 - 520
دینا،زمین کو کانٹوں اور گھاس پھونس نیز ان تمام خرابیوں سے پاک کرنا جو بیج کو بڑھنے سے روکتی ہیں یا خراب کر دیتی ہیں۔ تو جو یہ سب کام کرے پھر اللہ  تعالیٰ کے فضل کا منتظر ہو کر بیٹھ جائے کہ وہ زمین کو بجلی کی گرج اور دیگر آفات سے بچائے گا یہاں تک کہ کھیتی اپنی تکمیل کو پہنچ جائے تو اس انتظار کورجا یعنی امید کہتے ہیں اور اگر سخت زمین میں بیج ڈالے جو شور زیادہ ہو اور بلندی پر ہو جس تک پانی نہیں پہنچ سکتا اور بیج کی پروا بھی نہ کرے اورپھر اس کے کٹنے کا انتظار کرے تو اس انتظار کو بیوقوفی اور دھوکہ کہتے ہیں امید نہیں کہتے اور اگر اچھی زمین میں بیج ڈالالیکن اس میں پانی نہیں ہے اب وہ بارش کے انتظار میں ہے اور یہ ایسا وقت ہے جس میں عام طور پر بارش نہیں برستی تو اس انتظار کو تمنا کہتے ہیں ’’رجا‘‘ نہیں کہتے تو گویا رجاکا لفظ کسی ایسی پسندیدہ چیز کے انتظار پر صادق آتا ہے جس کے لئے وہ تمام اسباب تیار کر دئیے گئے ہوں جو بندے کے اختیار میں ہیں ، صرف وہی اسبا ب باقی رہ گئے جو بندے کے اختیار میں نہیں ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کی وجہ سے تمام نقصان دہ اور فاسدکرنے والے اسباب کھیتی سے دور ہو جاتے ہیں پس جب بندہ ایمان کا بیج ڈالتا ہے اورا س کو عبادات کا پانی پلاتا ہے ،دل کو بد اخلاقی کے کانٹوں سے پاک کرتا ہے اور اللہتعالیٰ کے فضل کا مرتے دم تک منتظر رہتا ہے، مغفرت تک پہنچانے والے اچھے خاتمے کا انتظار کرتا ہے تو یہ انتظار حقیقی رجا (امید ) ہے یہ ذاتی طور پر قابلِ تعریف ہے اوراگر ایمان کے بیج کو عبادات کا پانی نہ دیا جائے یا دل کو برے اخلاق سے ملوث چھوڑدیا جائے اور دنیاوی لذت میں منہمک ہو جائے اورپھر مغفرت کا انتظار کرے تو اس کا انتظار ایک بیوقوف اور دھوکے میں مبتلاشخص کا انتظار ہے۔نبی اکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا’’اَلْاَحْمَقُ مَنِ اتَّبَعَ نَفْسَہٗ ہَوَاھَا وَتَمَنّٰی عَلَی اللہِ  الْاَمَانِیَّ‘‘ بے وقوف وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات کے پیچھے لاتا ہے اور(اس کے باوجود) اللہ تعالیٰ سے تمنائیں کرتا ہے(کہ وہ بڑا کریم اور غفور و رحیم ہے،اس سے اور اس کے اعمال سے بے پرواہ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اسے کوئی سزا نہیں دے گا بلکہ جنت میں داخل کر دے گا اور وہ اس کی من چاہی چیزیں اسے دے گا)۔ 
(فیض القدیر، حرف الہمزۃ، ۲/۴۴۵، تحت الحدیث: ۲۰۲۵، احیاء العلوم، کتاب الخوف والرجائ، بیان حقیقۃ الرجائ، ۴/۱۷۵)
بَلٰی٭ مَنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلہِ وَہُوَ مُحْسِنٌ فَلَہٗۤ اَجْرُہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ۪ وَلَا خَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ﴿۱۱۲﴾٪