Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
196 - 520
ترجمۂکنزالایمان:ہاں کیوں نہیں جس نے اپنا منہ جھکایا اللہ کے لئے اور وہ نکو کار ہے تو اس کا نیگ اس کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہو اور نہ کچھ غم۔
ترجمۂکنزالعرفان:ہاں کیوں نہیں ؟ جس نے اپنا چہرہ اللہ کے لئے جھکا دیا اور وہ نیکی کرنے والا بھی ہو تو اس کااجر اس کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ 
{بَلٰی: کیوں نہیں۔}جنت میں داخلے کا حقیقی معیار ایمانِ صحیح اور عملِ صالح ہے اور کسی بھی زمانے اور کسی بھی نسل و قوم کا آدمی اگر صحیح ایمان و عمل رکھتا ہے تو وہ جنت میں جائے گا۔ البتہ یہ یاد رہے کہ نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے اعلانِ نبوت کے بعد آپ کی نبوت نہ ماننے والے کا ایمان قطعاً صحیح نہیں ہوسکتا اور کوئی بھی عمل ایمان کے بغیر صالح نہیں ہوسکتا،گویا جو حضور پرنور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان رکھے اور عملِ صالح کرے وہ جنت کا مستحق ہے۔
 چونکہ یہودیوں اور عیسائیوں نے کہا تھا کہ ان کے سوا کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگا تو اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ ان کے علاوہ کوئی جنت میں کیوں داخل نہیں ہوگا جبکہ اللہ  تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جو بھی ایمان صحیح اور عمل صالح لے کر آئے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ 
وَقَالَتِ الْیَہُوۡدُ لَیۡسَتِ النَّصٰرٰی عَلٰی شَیۡءٍ۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰی لَیۡسَتِ الْیَہُوۡدُ عَلٰی شَیۡءٍۙ وَّہُمْ یَتْلُوۡنَ الْکِتٰبَؕ کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیۡنَ لَا یَعْلَمُوۡنَ مِثْلَ قَوْلِہِمْۚ فَاللہُ یَحْکُمُ بَیۡنَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخْتَلِفُوۡنَ﴿۱۱۳﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور یہودی بولے نصرانی کچھ نہیں اور نصرانی بولے یہودی کچھ نہیں حالانکہ وہ کتاب پڑھتے ہیں اسی طرح جاہلوں نے ان کی سی بات کہی تو اللہ قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں جھگڑ رہے ہیں۔
 ترجمۂکنزالعرفان:اور یہودیوں نے کہا: عیسائی کسی شے پر نہیں اور عیسائیوں نے کہا : یہودی کسی شے پر نہیں حالانکہ یہ کتاب پڑھتے ہیں اسی طرح جاہلوں نے ان (پہلوں )جیسی بات کہی تو اللہ قیامت کے دن ان میں اس بات کا فیصلہ کردے گا جس میں یہ جھگڑ رہے ہیں۔