بندیاں ہیں تم فرماؤ لا ؤ اپنی دلیل اگر سچے ہو۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور اہل کتاب نے کہا: ہرگز جنت میں داخل نہ ہو گا مگر وہی جو یہودی ہو یاعیسائی۔ یہ ان کی من گھڑت تمنائیں ہیں۔ تم فرمادو: اگر تم سچے ہوتو اپنی دلیل لاؤ۔
{لَنۡ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ: ہر گز جنت میں داخل نہ ہوں گے۔}یہودی مسلمانوں سے کہتے تھے کہ جنت میں صرف یہودی جائیں گے اور عیسائی کہتے تھے کہ صرف وہی جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ گفتگو مسلمانوں کو بہکانے کے لئے تھی، ان کی تردید میں یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی، جس میں فرمایا گیا کہ ان کی یہ بات ان کی اپنی رائے سے ہے، توریت و انجیل میں ایسا کچھ نہیں فرمایا گیا،اگر وہ سچے ہیں تو اپنی اس بات پر کوئی دلیل لائیں۔
{اَمَانِیُّہُمْ: ان کی من گھڑت تمنائیں۔ }بغیر کسی بنیاد کے جنت میں داخلے کے زبانی دعوے کرنا جہالت و حماقت ہے۔ ایک امید ہے جسے عربی میں ’’رَجا‘‘ کہتے ہیں اور ایک خام خیالی ہے جسے عربی میں ’’اُمْنِیَّہْ‘‘ کہتے ہیں۔ امام غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس موضوع پر بڑا پیاراکلام ارشاد فرمایا ہے۔ اس کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیں۔چنانچہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں : رجاء یعنی امیددل کی اس راحت کا نام ہے جو محبوب چیز کے انتظار سے حاصل ہوتی ہے لیکن یہ محبوب جس کی توقع کی جا رہی ہے ا س کا کوئی سبب ہونا چاہئے لہٰذا اگر اس کا انتظار اکثر اسباب کے ساتھ ہے تو اسے ’’رجا‘‘ یعنی امید کہتے ہیں اور اگر اسباب بالکل نہ ہوں یا اضطراب کے ساتھ ہوں تو اسے امید نہیں بلکہ دھوکہ اور بیوقوفی کہا جائے گا اور اگر اسباب کے ہونے یا نہ ہونے کا علم نہ ہو تو اس انتظار کو’’تمنا‘‘ کہتے ہیں۔ اہلِ دل حضرات جانتے ہیں کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے اور دل زمین کی طرح ہے ،ایمان اس میں بیج کی حیثیت رکھتا ہے اور عبادت زمین کو الٹ پلٹ کرنے، صاف کرنے اور نہر یں کھودنے اور ان زمینوں میں پانی جاری کرنے کی طرح ہیں اور دل جو دنیا میں غرق اور ڈوبا ہوا ہے اس بنجر زمین کی طرح ہے جس میں بیج کوئی پھل نہیں لاتااور قیامت کا دن فصل کاٹنے کا دن ہے اور ہر شخص وہی کاٹے گا جو اس نے بویا ہو گا اور کھیتی کا بڑھنا ایمان کے بیج کے بغیر ناممکن ہے اور جب دل میں خباثت اور برے اخلاق ہوں تو ایمان بہت کم نفع دیتا ہے جیسے بنجر زمین میں بیج سے فصل پیدا نہیں ہوتی تو مناسب یہی ہے کہ آدمی کے مغفرت کی امید رکھنے کو کھیتی والے پر قیاس کیا جائے یعنی جو شخص اچھی زمین حاصل کرتا ہے اور اس میں عمدہ بیج ڈالتا ہے جو نہ توخراب ہوتا ہے اور نہ ہی بدبودار اور پھر اس کی تمام ضروریات کو پورا کرتا ہے ۔ ضروریات سے مراد وقت پر پانی