Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
193 - 520
	یاد رہے کہ حسد حرام ہے البتہ اگر کوئی شخص اپنے مال و دولت یا اثر ووجاہت سے گمراہی اور بے دینی پھیلاتا ہو تو اس کے فتنہ سے محفوظ رہنے کے لیے اس کی نعمت کے زوال کی تمنا حسد میں داخل نہیں اور حرام بھی نہیں۔
(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۹، ۱/۷۹-۸۰)
{فَاعْفُوۡا: تو تم معاف کرو۔} کفار کے ساتھ جنگ کے ذریعے بدلے لینے کی بجائینرمی کی تمام آیات کا یہ حکم ہے کہ وہ جہاد کی آیتوں سے منسوخ ہیں جیسااس حکم کے آخر میں خود فرمادیا ’’یہاں تک کہ اللہ  اپنا حکم لائے‘‘ اور وہ حکم جہاد وقتال کا ہے۔
وَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَؕ وَمَا تُقَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِکُمۡ مِّنْ خَیۡرٍ تَجِدُوۡہُ عِنۡدَ اللہِؕ اِنَّ اللہَ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ﴿۱۱۰﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اپنی جانوں کے لئے جو بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے یہاں پاؤ گے بیشک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اپنی جانوں کے لئے جو بھلائی تم آگے بھیجو گے اسے اللہ کے یہاں پاؤ گے بیشک اللہ تمہارے سب کام دیکھ رہا ہے۔ 
{وَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ: اور نماز قائم کرو۔} یہاں مسلمانوں کو اپنی اصلاحِ نفس کا حکم دیا جارہا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کسی بھی دینی یا دنیوی اہم کام میں مصروف ہواسے اپنے نفس کی اصلاح سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ عین حالت ِ جہاد میں بھی نمازِ خوف کا حکم موجود ہے۔ طلاق کے مسائل بیان کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ نے نماز اور تقویٰ کے احکام بیان فرمائے ہیں۔ لہٰذا اگر کوئی نیکی کی دعوت میں یا علمِ دین کے حصول یا کسی دوسرے اہم دینی کام میں مشغول ہے تو اسے اپنی اصلاح سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ 
وَقَالُوۡا لَنۡ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنۡ کَانَ ہُوۡدًا اَوْ نَصٰرٰیؕ تِلْکَ اَمَانِیُّہُمْؕ قُلْ ہَاتُوۡا بُرْہٰنَکُمْ اِنۡ کُنۡتُمْ صٰدِقِیۡنَ﴿۱۱۱﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور اہل کتاب بولے، ہرگز جنت میں نہ جائے گا مگر وہ جو یہودی یا نصرانی ہو یہ ان کی خیال