Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
184 - 520
 ذریعے عام عادت کے خلاف کوئی کا م کرناجادو کہلاتا ہے۔  (شرح المقاصد، المقصد السادس، الفصل الاول فی النبوۃ، ۵/۷۹)
	جادو فرمانبردار اور نافرمان لوگوں کے درمیان امتیاز کرنے اور لوگوں کی آزمائش کے لیے نازل ہوا ہے،جو اس کو سیکھ کر اس پر عمل کرے کافر ہوجائے گابشرطیکہ اُس جادو میں ایمان کے خلاف کلمات اور افعال ہوں اوراگر کفریہ کلمات و افعال نہ ہوں تو کفر کا حکم نہیں ہے۔
	یہاں مزید تین مسئلے یاد رکھیں :
 (1)…جو جادو کفر ہے اس کا عامل اگر مردہوتو اسے قتل کردیا جائے گا۔
 (2) …جو جادو کفر نہیں مگر اس سے جانیں ہلاک کی جاتی ہیں تو اس کا عامل ڈاکو کے حکم میں ہے مردہو یا عورت۔ یعنی اس کی سزا بھی قتل ہے۔
(3)…اگر جادو گر توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہے۔                   (مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ص ۶۹)
	 احادیث میں جادو کی بہت مذمت کی گئی ہے ،چنانچہ حضرت عثمان بن ابی عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، میں نے حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو ارشاد فرماتے سنا: ’’اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام رات کی ایک گھڑی اپنے گھر والوں کو بیدار کرتے اور ارشاد فرماتے:’’اے آلِ داؤد! اٹھو اور نماز پڑھو کیونکہ اس گھڑی اللہ تعالیٰ جادو گر اور (ناحق) ٹیکس لینے والے کے علاوہ ہرایک کی دُعا قبول فرماتا ہے۔ (مسند امام احمد، مسند المدنیین، حدیث عثمان بن ابی العاص الثقفی، ۵/۴۹۲، الحدیث: ۱۶۲۸۱)
	حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:’’شراب کا عادی، جادو پریقین رکھنے والا اور قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔
(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب الکھانۃ والسحر، ۷/۶۴۸، الحدیث: ۶۱۰۴)
	یاد رہے کہ یہاں جادو گر کے بارے میں جو سزائیں بیان کی گئیں یہ سزائیں دینا صرف اِسلامی حکومت کا کام ہے، عوامُ النَّاس کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ، البتہ ہر ایک کو چاہئے کہ جادو کرنے والوں سے دور رہے۔ نیزجادو سے متعلق مزید تفصیل جاننے کے لئے کتاب ’’جہنم میں لے جانے والے اعمال‘‘ کی دوسری جلد کا مطالعہ فرمائیں۔
{وَمَا ہُمۡ بِضَآرِّیۡنَ: اور وہ نقصان پہنچانے والے نہیں۔}اس آیت سے چند مسائل معلوم ہوئے: