اور ماروت دو فرشتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی آزمائش کے لئے مقرر فرمایا کہ جو جادو سیکھنا چاہے اسے نصیحت کریں کہ ’’اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَۃٌ فَلَا تَکْفُرْ‘‘ ہم توآزمائش ہی کے لئے مقررہوئے ہیں توکفرنہ کر۔ اور جو ان کی بات نہ مانے وہ اپنے پاؤں پہ چل کے خودجہنم میں جائے،یہ فرشتے اگر اسے جادو سکھاتے ہیں تو وہ فرمانبرداری کر رہے ہیں نہ کہ نافرمانی کر رہے ہیں۔
(الشفائ، فصل فی القول فی عصمۃ الملائکۃ، ص۱۷۵-۱۷۶، الجزء الثانی، فتاوی رضویہ، کتاب الشتی، ۲۶/۳۹۷)
فرشتوں کی عصمت کا بیان:
فرشتوں کے بارے میں عقیدہ یہ ہے کہ یہ گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’لَا یَعْصُوۡنَ اللہَ مَاۤ اَمَرَہُمْ وَ یَفْعَلُوۡنَ مَا یُؤْمَرُوۡنَ‘‘ (تحریم: ۶)
ترجمۂکنزالعرفان:وہ (فرشتے)اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔
اور ارشاد فرمایا:
’’وَہُمْ لَایَسْتَکْبِرُوۡنَ ﴿۴۹﴾ یَخَافُوۡنَ رَبَّہُمۡ مِّنۡ فَوْقِہِمْ وَیَفْعَلُوۡنَ مَا یُؤْمَرُوۡنَ﴿۵۰﴾٪ٛ‘‘(نحل: ۴۹-۵۰)
ترجمۂکنزالعرفان:اورفرشتے غرور نہیں کرتے۔ وہ اپنے اوپر اپنے رب کا خوف کرتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتاہے۔
امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس آیت سے ثابت ہوا کہ فرشتے تمام گناہوں سے معصوم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ وہ غرور نہیں کرتے ا س بات کی دلیل ہے کہ فرشتے اپنے پیدا کرنے والے اور بنانے والے کے اطاعت گزار ہیں اور وہ کسی بات اور کسی کام میں بھی اللہ تعالیٰ کی مخالفت نہیں کرتے۔(تفسیر کبیر، النحل، تحت الآیۃ: ۵۰، ۷/۲۱۷۔۲۱۸)
{فَلَا تَکْفُرْ: تو کفر نہ کر۔} ہاروت و ماروت کے پاس جو شخص جادو سیکھنے آتا تو یہ سکھانے سے پہلے ا سے نصیحت کرتے ہوئے فرماتے کہ جادو سیکھ کر اور اس پر عمل کرکے اور اس کوجائز و حلال سمجھ کر اپنا ایمان ضائع نہ کر۔اگر وہ ان کی بات نہ مانتا تو یہ اسے جادو سکھا دیتے۔
جادو کی تعریف اور اس کی مذمت:
علماء کرام نے جادو کی کئی تعریفیں بیان کی ہیں ،ان میں سے ایک یہ ہے کہ کسی شریر اور بدکار شخص کا مخصوص عمل کے