Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
185 - 520
(1)… مؤثرِ حقیقی اللہ تعالیٰ ہے اور اسباب کی تاثیر اللہ  تعالیٰ کی مَشِیَّت یعنی چاہنے کے تحت ہے۔ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو ہی کوئی شے اثر کرسکتی ہے،اگر اللہ  تعالیٰ نہ چاہے تو آگ جلا نہ سکے، پانی پیاس نہ بجھا سکے اوردوا شِفا نہ دے سکے۔ 
(2)… جادو میں اثر ہے اگرچہ اس میں کفریہ کلمے ہوں۔
(3)… جب جادو میں نقصان کی تاثیر ہے تو قرآنی آیات میں ضرور شفا کی تاثیر ہے۔یونہی جب کفار جادو سے نقصان پہنچا سکتے ہیں تو خدا کے بندے بھی کرامت کے ذریعہ نفع پہنچ سکتے ہیں۔ جیسے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا بیماروں ، اندھوں او رکوڑھیوں کو شفا بخشنا خود قرآن مجید میں موجود ہے۔
وَلَوْ اَنَّہُمْ اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوْا لَمَثُوۡبَۃٌ مِّنْ عِنۡدِ اللہِ خَیۡرٌ ؕ لَوْ کَانُوۡا یَعْلَمُوۡنَ﴿۱۰۳﴾٪
ترجمۂکنزالایمان:اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو اللہ کے یہاں کا ثواب بہت اچھا ہے کسی طرح انہیں علم ہوتا۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیزگاری اختیارکرتے تو اللہ کے یہاں کا ثواب بہت اچھا ہے،اگر یہ جانتے۔
{وَلَوْ اَنَّہُمْ اٰمَنُوۡا: اگر وہ ایمان لاتے۔} فرمایا گیا کہ اگر یہودی حضور، سید ِ کائنات  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اور قرآنِ پاک پرایمان لاتے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں کا ثواب ان کیلئے بہت اچھا ہوتا کیونکہ آخرت کی تھوڑی سی نعمت دنیا کی بڑی سے بڑی نعمت سے اعلیٰ ہے۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقُوۡلُوۡا رٰعِنَا وَقُوۡلُوا انۡظُرْنَا وَاسْمَعُوۡا ؕ وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ﴿۱۰۴﴾
ترجمۂکنزالایمان:اے ایمان والوراعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے۔
ترجمۂکنزالعرفان:اے ایمان والو!راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے۔
{لَا تَقُوۡلُوۡا رٰعِنَا: راعنا نہ کہو۔ }شان نزول: جب حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ صحابہ کرام