Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
182 - 520
 صرف(لوگوں کا) امتحان ہیں تو(اے لوگو!تم ) اپنا ایمان ضائع نہ کرو۔وہ لوگ ان فرشتوں سے ایسا جادوسیکھتے جس کے ذریعے مرد اور اس کی بیوی میں جدائی ڈال دیں حالانکہ وہ اس کے ذریعے کسی کو اللہ کے حکم کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے اور یہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو انہیں نقصان دے اور انہیں نفع نہ دے اور یقینا انہیں معلوم ہے کہ جس نے یہ سودا لیا ہے آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور انہوں نے اپنی جانوں کا کتنا برا سودا کیا ہے، کیا ہی اچھا ہوتا اگر یہ جانتے۔ 
{وَاتَّبَعُوۡا: وہ جادو کے پیچھے پڑ گئے۔} شان نزول: حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے زمانہ میں بنی اسرائیل جادو سیکھنے میں مشغول ہوئے تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ان کو اس سے روکا اور ان کی کتابیں لے کر اپنی کرسی کے نیچے دفن کردیں۔ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وفات کے بعد شیاطین نے وہ کتابیں نکال کر لوگوں سے کہا کہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماسی کے زور سے سلطنت کرتے تھے۔ بنی اسرائیل کے نیک لوگوں اور علماء نے تو اس کا انکار کیا لیکن ان کے جاہل لوگ جادو کو حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا علم مان کر اس کے سیکھنے پر ٹوٹ پڑے، انبیاء کرام  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی کتابیں چھوڑ دیں اور حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر ملامت شروع کی۔ہمارے آقا محمد مصطفی  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے زمانے تک یہی حال رہا اور اللہ  تعالیٰ نے حضور اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ذریعے حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی جادو سے براء ت کا اظہار فرمایا۔  (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۱/۷۳ )
{وَمَا کَفَرَ سُلَیۡمٰنُ: اور سلیمان نے کفر نہ کیا۔}اس آیت سے معلوم ہوا کہ پیغمبروں سے دشمنوں کے الزام دور کرنا اللہ تعالیٰ کی سنت ہے جیسا کہ لوگوں نے حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر جادو گری کی تہمت لگائی اور اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس تہمت کو دور فرمایا۔نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ جادو کرنا کبھی کفر بھی ہوتا ہے جبکہ اس میں کفریہ الفاظ ہوں۔
{ہٰرُوۡتَ وَمٰرُوۡتَ: ہاروت اور ماروت۔}ہاروت، ماروت دو فرشتے ہیں جنہیں بنی اسرائیل کی آزمائش کیلئے اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا۔ ان کے بارے میں غلط قصے بہت مشہور ہیں اور وہ سب باطل ہیں۔  (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۱/۷۵)
	اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے ہاروت اور ماروت کے بارے میں جو کلام فرمایا اس کا خلاصہیہ ہے کہ ’’ہاروت اور ماروت کا واقعہ جس طرح عوام میں مشہور ہے آئمہ کرام اس کا شدید اور سخت انکار کرتے ہیں ، اس کی تفصیل شفاء شریف اور اس کی شروحات میں موجود ہے، یہاں تک کہ امام اجل قاضی عیاض رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: ’’ہاروت اور ماروت کے بارے میں یہ خبریں یہودیوں کی کتابوں اور ان کی گھڑی ہوئی باتوں میں سے ہیں۔ اور راجح یہی ہے کہ ہاروت