’’قُلۡ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الۡاِنۡسُ وَالْجِنُّ عَلٰۤی اَنۡ یَّاۡتُوۡا بِمِثْلِ ہٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاۡتُوۡنَ بِمِثْلِہٖ وَلَوْ کَانَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ ظَہِیۡرًا﴿۸۸﴾‘‘( بنی اسرائیل: ۸۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: اگر آدمی اور جن سب اس بات پر متفق ہوجائیں کہ اس قرآن کی مانند لے آئیں تو اس کا مثل نہ لاسکیں گے اگرچہ ان میں ایک دوسرے کا مددگار ہو۔
(4)…یہ قرآن باطل کی رسائی سے دور ہے کہ اس کے پاس کسی طرف سے باطل نہیں آ سکتا،جیساکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’لَّا یَاۡتِیۡہِ الْبٰطِلُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ لَا مِنْ خَلْفِہٖ ؕ تَنۡزِیۡلٌ مِّنْ حَکِیۡمٍ حَمِیۡدٍ﴿۴۲﴾‘‘ (حم السجدہ:۴۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان:باطل اس کے سامنے اور اس کے پیچھے (کسی طرف )سے بھی اس کے پاس نہیں آسکتا۔وہ قرآن اس کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے جو حکمت والا، تعریف کے لائق ہے۔
(5)…یہ کلام سیدھااور مستقیم ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی کَجی ، ٹیڑھا پن نہیں ہے بلکہ نہایت مُعتدل اور مَصالحِ عِباد پر مشتمل کتاب ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’اَلْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلٰی عَبْدِہِ الْکِتٰبَ وَلَمْ یَجْعَلۡ لَّہٗ عِوَجًا ؕ﴿ٜ۱﴾ قَیِّمًا لِّیُنۡذِرَ بَاۡسًا شَدِیۡدًا مِّنۡ لَّدُنْہُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیۡنَ الَّذِیۡنَ یَعْمَلُوۡنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمْ اَجْرًا حَسَنًا ۙ﴿۲﴾‘‘ (کہف: ۱،۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تمام تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل فرمائی اور اس میں کوئی ٹیڑھ نہیں رکھی۔ لوگوں کی مصلحتوں کو قائم رکھنے والی نہایت معتدل کتاب تاکہ اللہ کی طرف سے سخت عذاب سے ڈرائے اوراچھے اعمال کرنے والے مومنوں کو خوشخبری دے کہ ان کے لیے اچھا ثواب ہے۔
(6)…یہ محفوظ کتاب ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی کیونکہ اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا: ’’اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ ﴿۹﴾‘‘(حجر: ۹)
ترجمۂکنزُالعِرفان:بیشک ہم نے اس قرآن کو نازل کیا ہے اور بیشک ہم خود اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
(7)…یہ جامعُ العلوم کتاب ہے کہ اَولین و آخِرین کا علم اِس کتاب میں موجود ہے ،چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: