Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
17 - 520
کی بارگاہ میں اسے لانے کا شرف روحُ الامین حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام کو حاصل ہوا اور شب ِ معراج کچھ آیات بلاواسطہ بھی عطا ہوئیں …قرآنِ مجید کو دنیا کی فصیح ترین زبان یعنی عربی زبان میں نازل کیا گیا تاکہ لوگ اسے سمجھ سکیں اور عرب کے رہنے والوں اور کفارِ قریش کے لئے کوئی عذر باقی نہ رہے اور وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم اس کلام کو سن کر کیا کریں گے جسے ہم سمجھ ہی نہیں سکتے …قرآن مجید کو تورات و انجیل کی طرح ایک ہی مرتبہ نہیں اتارا گیا بلکہ حالات و واقعات کے حساب سے تھوڑا تھوڑا کر کے تقریباً 23سال کے عرصے میں اسے نازل کیا گیا تاکہ اس کے احکام پر عمل کرنا مسلمانوں پر بھاری نہ پڑے اور نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے قلب اطہر کو مضبوطی حاصل ہو، اور یہ اللہ  تعالیٰ کا اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی امت پر بہت بڑا احسان ہے … قرآنِ عظیم کے کثیر اسماء ہیں جو کہ اس کتاب کی عظمت و شرف کی دلیل ہیں ، ان میں سے چھ مشہوراسماء یہ ہیں :
(1) قرآن۔ (2) برہان۔ (3) فرقان۔ (4 ) کتاب۔ (5 ) مصحف۔ (6 )نور۔ 
 قرآنِ عظیم کی عظمت:
	اللہ تعالیٰ نے جو عظمت و شان قرآنِ مجید کو عطا کی ہے وہ کسی اور کلام کو حاصل نہیں ،یہاں اس کی 11عظمتیں ملاحظہ ہوں۔
(1)…قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی واضح دلیل اور ا س کا نازل کیا ہو انور ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَآءَکُمۡ بُرْہَانٌ مِّنۡ رَّبِّکُمْ وَاَنۡزَلْنَاۤ اِلَیۡکُمْ نُوۡرًا مُّبِیۡنًا﴿۱۷۴﴾‘‘        (النساء: ۱۷۴)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے لوگوبیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیل آگئی اور ہم نے تمہاری طرف روشن نورنازل کیا۔ 
(2)…اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی اس کلام کو اپنی طرف سے نہیں بنا سکتا، چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’وَمَا کَانَ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنۡ یُّفْتَرٰی مِنۡ دُوۡنِ اللہِ وَلٰکِنۡ تَصْدِیۡقَ الَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَتَفْصِیۡلَ الْکِتٰبِ لَارَیۡبَ فِیۡہِ مِنۡ رَّبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۟۳۷﴾‘‘                           (یونس: ۳۷)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس قرآن کی یہ شان نہیں کہ اللہ کے نازل کئے بغیر کوئی اسے اپنی طرف سے بنالے ، ہاں یہ اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق ہے اور لوحِ محفوظ کی تفصیل ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے، یہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔
(3)…تمام جن و اِنس مل کر اور ایک دوسرے کی مدد کر کے بھی قرآنِ عظیم جیسا کلام نہیں لا سکتے ،چنانچہ ارشاد فرمایا: