Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
174 - 520
ترجمۂکنزالایمان:تم فرماؤ اگر پچھلا گھر اللہ کے نزدیک خالص تمہارے لئے ہو نہ اوروں کے لئے تو بھلا موت کی آرزو تو کرو اگر سچے ہو۔
ترجمۂکنزالعرفان:اے محبوب!تم فرمادو: اگر دوسرے لوگوں کو چھوڑ کر آخرت کا گھر اللہ کے نزدیک خالص تمہارے ہی لئے ہے تو اگر تم سچے ہوتو موت کی تمنا تو کرو۔ 
{خَالِصَۃً: خالص تمہارے لئے ۔} یہودیوں کا ایک باطل دعویٰ یہ تھا کہ جنت میں صرف وہی جائیں گے جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت 111میں یہ دعویٰ مذکور ہے۔ اس کا رد فرمایا جاتا ہے کہ اگر تمہارے گمان میں جنت تمہارے لیے خاص ہے اور آخرت کی طرف سے تمہیں اطمینان ہے، اعمال کی حاجت نہیں تو جنتی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیوی مصائب کیوں برداشت کرتے ہو، موت کی تمنا کرو تاکہ عیش و آرام والی جنت میں پہنچ جاؤ اور اگر تم نے موت کی تمنا نہ کی تو یہ تمہارے جھوٹا ہونے کی دلیل ہے۔
(البحر المحیط، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۹۴-۹۵، ۱/۴۷۸)
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے،حضور اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:’’ اگر یہودی موت کی تمنا کرتے تو سب ہلاک ہوجاتے اور روئے زمین پر کوئی یہودی باقی نہ رہتا۔ (تفسیر بغوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۹۴، ۱/۶۰)
{فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ: تو موت کی تمنا کرو۔} موت کی محبت اوراللہ  تعالیٰ کی ملاقات کا شوق مقبول بندوں کا طریقہ ہے۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ( ہر نماز کے بعد) دعا فرماتے ’’اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِی شَھَادَۃً فِی سَبِیْلِکَ وَاجْعَلْ مَوْتِیْ فِیْ بَلَدِ رَسُوْلِکَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ‘‘ یارب مجھے اپنی راہ میں شہادت اور اپنے رسول  کے شہر میں مجھے وفات نصیب فرما۔ 
(بخاری، کتاب فضائل المدینۃ، ۱۳-باب، ۱/۶۲۲، الحدیث: ۱۸۹۰) 
	عمومی طور پر تمام اکابرصحابہ او ربالخصوص شہدائے بدر واحد واصحابِ بیعت رضوان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمراہِ خدا میں موت سے محبت رکھتے تھے، حضرت خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایران والوں کوجو خط بھیجا اس میں تحریر فرمایا تھا: ’’اِنَّ مَعِیَ قوْماً یُّحِبُّوْنَ الْقَتْلَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ کَمَا یُحِبُّ الَْفَارَسُ الْخَمْرَ‘‘ یعنی میرے ساتھ ایسی قوم ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو جانے کو اتنا محبوب رکھتی ہے جتنا ایرانی لوگ شراب سے محبت رکھتے ہیں۔(معجم الکبیر، باب من اسمہ خالد، ۴/۱۰۵، الحدیث: ۳۸۰۶) 
	ایک دوسری روایت میں ہے کہ اس طرح کا خط حضرت سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایرانی لشکر کے