سپہ سالار رستم بن فرخ زاد کے پاس بھیجا تھا اوراس میں تحریر فرمایا تھا: ’’اِنَّ مَعِیَ قوْماً یُّحِبُّوْنَ الْمَوْتَ کَمَا یُحِبُّ الَْفارَسُ الْخَمْرَ‘‘ یعنی میرے ساتھ ایسی قوم ہے جو موت کو اتنا محبوب رکھتی ہے جتنا عجمی شراب کو مرغوب رکھتے ہیں۔
(تفسیر عزیزی (مترجم)، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۹۴، ۲/۶۰۳)
اس میں لطیف اشارہ تھا کہ شراب کی ناقص مستی کو محبت ِ دنیا کے دیوانے پسند کرتے ہیں اور اللہ والے موت کو محبوب حقیقی کے وصال کا ذریعہ سمجھ کر محبوب جانتے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ اہلِ ایمان آخرت کی رغبت رکھتے ہیں اور اگرلمبی عمر کی تمنا بھی کریں تو وہ اس لیے ہوتی ہے کہ نیکیاں کرنے کے لیے کچھ اور عرصہ مل جائے جس سے آخرت کے لیے ذخیرئہ سعادت زیادہ کرسکیں اوراگر گزشتہ زندگی میں گناہ ہوئے ہیں تو ان سے توبہ و استغفار کرلیں البتہ دنیوی مصائب سے تنگ آکر وہ کبھی موت کی تمنا نہیں کرتے۔ حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسول کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’ کوئی دنیوی مصیبت سے پریشان ہو کر موت کی تمنا نہ کرے اور اگر موت کی تمنا کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو تو یوں دعا کرے کہ اے اللہ!عَزَّوَجَلَّ، جب تک زندہ رہنا میرے لئے بہتر ہے اس وقت تک مجھے زندہ رکھ اور جب میرے لئے وفات بہتر ہو اس وقت مجھے وفات دیدے۔(بخاری، کتاب المرضی، باب تمنی الموت، ۴/۱۳، الحدیث: ۵۶۷۱) اور درحقیقت دنیوی پریشانیوں سے تنگ آکر موت کی دعا کرنا صبر و رضاو تسلیم و توکل کے خلاف ہے اورناجائز ہے۔
وَلَنۡ یَّتَمَنَّوْہُ اَبَدًۢابِمَا قَدَّمَتْ اَیۡدِیۡہِمْ ؕ وَاللہُ عَلِیۡمٌۢ بِالظّٰلِمِیۡنَ﴿۹۵﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور ہرگز کبھی اس کی آرزو نہ کریں گے ان بداعمالیوں کے سبب جو آگے کرچکے اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو۔
ترجمۂکنزالعرفان:اوراپنی بداعمالیوں کی وجہ سے یہ ہرگز کبھی موت کی تمنا نہ کریں گے اور اللہ ظالموں کوخوب جانتا ہے۔
{وَلَنۡ یَّتَمَنَّوْہُ: اورہرگز موت کی تمنا نہ کریں گے۔ }یہ غیب کی خبر اور معجزہ ہے کہ یہود ی نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاور اسلام کی شدید مخالفت کے باوجود بھی موت کی تمنا کا لفظ زبان پر نہ لاسکے۔
وَلَتَجِدَنَّہُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰی حَیٰوۃٍ ۚۛ وَمِنَ الَّذِیۡنَ اَشْرَکُوۡا ۚۛ یَوَدُّ