Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
173 - 520
وہ اپنی زبان سے قرآن مجید پر ایمان لانے کاجو دعویٰ کر رہا ہے، کیا اس کی عملی حالت اس دعوے کی تصدیق کر رہی ہے یا نہیں۔ ذرا غور کریں کہ قرآن مجید میں مسلمانوں کو نماز پڑھنے،رمضان کے روزے رکھنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا گیا لیکن آج مسلمانوں کی اکثریت نمازوں سے دور ہے، فرض روزے نہ رکھنے کے مختلف حیلے بہانے تراش رہی ہے اور اپنے مال سے زکوٰۃ ادا کرنا ان پر بہت بھاری ہے۔ قرآن پاک میں مسلمانوں کو باطل اور ناجائز طریقے سے کسی مسلمان کا مال کھانے سے منع کیا گیا، لیکن آج مال بٹورنے کا کونسا ایسا ناجائز طریقہ ہے جو مسلمانوں میں کسی نہ کسی طرح رائج نہیں۔ قرآن حکیم نے کسی کو ناحق قتل کرنے سے منع کیا لیکن آج مسلمانوں میں ناحق قتل و غارت گری ایسی عام ہے کہ نہ مرنے والے کو پتا ہے کہ مجھے کیوں مارا گیا اور نہ مارنے والے کو پتا ہے کہ میں نے کیوں مارا۔ قرآن شریف میں مسلمان عورتوں کو گھروں میں رہنے اور پردہ کرنے کا حکم دیاگیا لیکن آج ہمارے معاشرے کا وہ کونسا طبقہ جس میں مسلمان عورت سج سنور کر اجنبی مردوں کے سامنے نہیں آرہی بلکہ آج مسلمانوں میں ہی کچھ لوگ عورت کے پردہ کرنے کو دقیانوسی سوچ اور تنگ ذہنی قرار دے رہے ہیں۔ اے کاش کہ ہم بھی اپنے زبانی ایمان و محبت کے دعووں اور بے عملی و بدعملی کے درمیان کا تضاد اور فرق سمجھنے میں کامیاب ہوجائیں اور ہمیں بھی اس بات پر غور کرنا نصیب ہو جائے کہ ہمارے جیسے اعمال ہیں کیا ہمارا ایمان ہمیں ان اعمال کا حکم دیتا ہے یا ہمارے ایمان کے تقاضے کچھ اور ہیں ؟ 
ایمانی قوت معلوم کرنے کا طریقہ:
	اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب تک دل میں برائی کی لذت و حلاوت موجود رہتی ہے تب تک ایمان اور نیک اعمال کی شیرینی اس میں داخل نہیں ہوسکتی اور گناہوں پر اصرار ایمان کی مٹھاس اور عبادت کی لذت محسوس نہیں ہونے دیتا۔ یاد رہے کہ نیکوں اورنیکیوں سے محبت ایمان کی علامت ہے جبکہ بروں اور برائیوں سے محبت ایمان کی کمزوری کی علامت ہے،لہٰذا ہر شخص کو چاہئے کہ وہ اپنی ایمانی قوت کو اپنے قلبی میلان سے معلوم کرے کیونکہ جن دلوں میں فلموں ، ڈراموں ، بے حیائیوں اور گانوں کی محبت ہو ان دلوں میں نماز، ذکر، درود اور تلاوت کی محبت نہیں سما سکتی۔ 
قُلْ اِنۡ کَانَتْ لَکُمُ الدَّارُ الۡاٰخِرَۃُ عِنۡدَ اللہِ خَالِصَۃً مِّنۡ دُوۡنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنۡ کُنۡتُمْ صٰدِقِیۡنَ﴿۹۴﴾