Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
172 - 520
وَّاسْمَعُوۡا ؕ قَالُوۡا سَمِعْنَا وَعَصَیۡنَا ٭ وَاُشْرِبُوۡا فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الْعِجْلَ بِکُفْرِہِمْ ؕ قُلْ بِئْسَمَا یَاۡمُرُکُمْ بِہٖۤ اِیۡمٰنُکُمْ اِنۡ کُنۡتُمْ مُّؤْمِنِیۡنَ﴿۹۳﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور یاد کرو جب ہم نے تم سے پیمان لیا او ر کوہِ طور کو تمہارے سروں پر بلند کیا، لو جو ہم تمہیں دیتے ہیں زور سے اور سنو بولے ہم نے سنا اور نہ مانا اور ان کے دلوں میں بچھڑا رچ رہا تھا ان کے کفر کے سبب تم فرمادو کیا برا حکم دیتا ہے تم کو تمہارا ایمان اگر ایمان رکھتے ہو۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور (یاد کرو)جب ہم نے تم سے عہد لیا او ر کوہِ طور کو تمہارے سروں پر بلند کردیا(اور فرمایا)مضبوطی سے تھام لو اس کو جوہم نے تمہیں عطا کی ہے اور سنو۔ انہوں نے کہا: ہم نے سنا اور نہ مانا اور ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں میں توبچھڑا رچا ہوا تھا۔ اے محبوب! تم فرمادو: اگر تم ایمان والے ہو تو تمہارا ایمان تمہیں کتنا برا حکم دیتا ہے۔ 
{وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیۡثٰقَکُمْ: اور جب ہم نے تم سے عہد لیا۔ }یعنی اے یہودیو! وہ وقت یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے تورات پر عمل کرنے کا عہد لیا لیکن انہوں نے حسب ِ عادت نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر کوہِ طور کو ہوا میں بلند کردیا اور ان سے فرمایا کہ چلو اب مضبوطی سے اس تورات کو تھام لو جوہم نے تمہیں عطا کی ہے اور ہمارے احکام دھیان سے سنو ۔بنی اسرائیل نے ڈر کے مارے دوبارہ اطاعت کا اقرار توکرلیا لیکن ان کے دل کی حالت پہلے جیسی ہی رہی اور شریعت کا حکم چونکہ ظاہر پر ہوتاہے دل پر نہیں ، اس لئے بنی اسرائیل کے زبانی اقرار کرنے پر ان سے کوہِ طورکو ہٹا لیا گیا اگرچہ ان کے دل میں وہی انکار تھا اور درحقیقت ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں میں توبچھڑے کی محبت گھسی ہوئی تھی۔ اے حبیب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،آپ ان سے فرمائیں کہ اے یہودیو!تم اپنے اسلاف کی اس حرکت کو جانتے ہو لیکن تم نہ اس سے نفرت کا اظہار کرتے ہو اورنہ ہی اس سے اپنی براء ت ظاہر کرتے ہو تو خود بتاؤ کہ کیا تورات پر ایمان لانے کے یہ تقاضے ہیں ؟اگر اس کے یہی تقاضے ہیں تو تمہارا ایمان تمہیں کتنا برا حکم دیتا ہے۔
قرآنِ مجید پر ایمان لانے کا مطلب:
	 اس آیت سے معلوم ہو اکہ اللہ  تعالیٰ کی کتاب پر ایمان لانے کامطلب یہ ہے کہ ا س کے تمام احکام اور سب تقاضوں پر عمل کیا جائے اور ان کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔ اس چیز کو سامنے رکھتے ہوئے ہر مسلمان کو غور کرنا چاہئے کہ