(1)… مشہور محدثین امام ابو بکر بن مقری، ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی اور امام ابو شیخ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْنے مزار پر انوار پر حاضر ہو کر بھوک کی فریاد کی تو رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ایک عَلوی کے ذریعے انہیں کھانا بھجوایا اور اس علوی نے کہا:آپ لوگوں نے بارگاہ رسالت میں فریاد کی تھی تو مجھے خواب میں حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی زیارت ہوئی اورحضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے مجھے حکم فرمایا کہ میں آپ لوگوں تک کھانا پہنچا دوں۔
(وفاء الوفائ، الباب الثامن فی زیارۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم، الفصل الثالث، ۲/۱۳۸۰، الجزء الرابع)
(2)…ابو قاسم ثابت بن احمد بغدادی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں : میں نے تاجدار رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے شہر اقدس مدینہ منورہ میں ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے روضہ انور کے قریب صبح کی اذان دی اور جب اس نے ’’اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمْ‘‘ کہا تو یہ سن کر مسجد نبوی کے خادموں میں سے ایک خادم آیا اور اِس نے اُسے تھپڑ مار دیا۔ وہ شخص رونے لگا اور اس نے فریاد کی: یارسولاللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کی موجودگی میں ا س شخص نے میرے ساتھ ایسا کیا ہے۔ (اس کی فریاد جیسے ہی ختم ہوئی ) تو اس خادم پر فالج گرا اور لوگ اسے اٹھا کر اس کے گھر لے گئے، تین دن بعد وہ خادم مر گیا۔ (ابن عساکر، حرف الثائ، ذکر من اسمہ ثابت، ۱۱/۱۰۴)
یاد رہے کہ علامہ نور الدین علی بن احمد سمہودی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی مشہور کتاب ’’وَفَائُ الْوَفَائْ بِاَخْبَارِ دَارِ الْمُصْطَفٰی‘‘ کے چوتھے حصے میں صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا ور اولیاء عظام رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْکے ایسے کئی واقعات بیان فرمائے ہے جن میں یہ ذکر ہے کہ انہوں نے سید المُرسَلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے روضہ انور پر حاضر ہو کر اپنیحاجت بیان کی اور رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کی مدد کرتے ہوئے ان کی حاجت پوری فرما دی اور امام محمد بن موسیٰ بن نعمان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے تو اس موضوع پر ’’مِصْبَاحُ الظَّلَامْ فِی الْمُسْتَغِیْثِیْنَ بِخَیْرِ الْاَنَامْ‘‘ کے نام سے باقاعدہ ایک کتاب بھی لکھی ہے۔
{لَا تَہۡوٰۤی اَنۡفُسُکُمُ: تمہارے دل پسند نہیں کرتے۔ }یہودی لوگ، پیغمبروں کے احکام اپنی خواہشوں کے خلاف پا کر انہیں جھٹلاتے اور موقع پاتے توان انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو قتل کر ڈالتے تھے جیسا کہ انہوں نے حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، حضرت یحیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اوران کے علاوہ بہت سے انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو شہید کیا، حتّٰی کہ ہمارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے بھی دَرپے رہے، کبھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر جادو کیا، کبھی زہر دیا اور ان