کے علاوہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو شہید کرنے کیلئے طرح طرح کے فریب کرتے رہے۔ آیت سے یہ بھی معلوم ہواکہ احکامِ الٰہی پر اپنی خواہشات کو ترجیح دینا یہودیوں کا جبکہ حکمِ الٰہی کے سامنے اپنے نفس کو کچل دینا کامل الایمان لوگوں کی نشانی ہے۔
وَقَالُوۡا قُلُوۡبُنَا غُلْفٌ ؕ بَلۡ لَّعَنَہُمُ اللہُ بِکُفْرِہِمْ فَقَلِیۡلًا مَّا یُؤْمِنُوۡنَ﴿۸۸﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور یہودی بولے ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہیں بلکہ اللہ نے ان پر لعنت کی ان کے کفر کے سبب تو ان میں تھوڑے ایمان لاتے ہیں۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور یہودیوں نے کہا: ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں بلکہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کردی ہے تو ان میں سے تھوڑے لوگ ہی ایمان لاتے ہیں۔
{قُلُوۡبُنَا غُلْفٌ: ہمارے دلوں پر پردے ہیں۔} یہودیوں نے مذاق اڑانے کے طور پر کہا تھا کہ ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ ان کی مراد یہ تھی کہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی ہدایت ان کے دلوں تک نہیں پہنچتی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا رد فرمایا کہ یہ جھوٹے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے دلوں کوفطرت پر پیدا فرمایااور ان میں حق قبول کرنے کی صلاحیت رکھی ہے۔ یہودیوں کا ایمان نہ لانا ان کے کفر کی شامت ہے کہ انہوں نے سید المُرسَلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت پہچان لینے کے بعد انکار کیا تواللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی ،اس کا یہ اثر ہے کہ وہ قبولِ حق کی نعمت سے محروم ہوگئے۔ (جلالین مع جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۸۸، ۱/۱۱۴-۱۱۵)
آج بھی ایسے لوگ ہیں کہ جن کے دلوں پرعظمت ِ رسالت سمجھنے سے پردے پڑے ہوئے ہیں۔
وَلَمَّا جَآءَہُمْ کِتٰبٌ مِّنْ عِنۡدِ اللہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمْ ۙ وَکَانُوۡا مِنۡ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوۡنَ عَلَی الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۚ فَلَمَّا جَآءَہُمۡ مَّا عَرَفُوۡا کَفَرُوۡا بِہٖ ۫ فَلَعْنَۃُ اللہِ عَلَی الْکٰفِرِیۡنَ﴿۸۹﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور جب ان کے پاس اللہ کی وہ کتاب (قرآن)آئی جو ان کے ساتھ والی کتاب (توریت) کی تصدیق فرماتی ہے اور اس سے پہلے وہ اسی نبی کے وسیلہ سے کافروں پر فتح مانگتے تھے تو جب تشریف لایا ان کے پاس وہ