Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
164 - 520
{وَاٰتَیۡنَا عِیۡسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ: عیسیٰ بن مریم کو ہم نے نشانیاں دیں۔}ان نشانیوں سے مراد حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزات ہیں جیسے مردوں کو زندہ کرنا، اندھوں اور برص والوں کوصحت دینا، پرندوں کی صورتوں میں جان ڈال دینا، غیب کی خبریں دینا وغیرہ جیسا کہ سورہ آلِ عمران آیت 49میں ہے۔ 
{وَاَیَّدْنٰہُ بِرُوۡحِ الْقُدُسِ: اور پاک روح کے ذریعے ا س کی مدد کی۔}روح القدس سے حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام مراد ہیں کہ وہ روحانی ہیں اور ایسی وحی لاتے ہیں جس سے دلوں کو حیات یعنی زندگی ملتی ہے۔ حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَامکو حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ساتھ رہنے کا حکم تھا۔ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے آسمان پر اٹھائے جانے تک حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام سفر وحضر میں کبھی آپ سے جدا نہ ہوئے اور حضرت جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام کی تائید حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی بہت بڑی فضیلت ہے۔ حضور سید المرسَلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے صدقہ میں آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بعض امتیوں کو بھی روح القدس کی تائید میسر ہوئی چنانچہ بخاری ، ابوداؤد اور معجم کبیر کی حدیث ہے کہ حضرت حسان  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے لیے منبر بچھایا جاتا اوروہ نعت شریف پڑھتے۔حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ان کے لیے دعا فرماتے ’’ اللھُمَّ اَیِّدْہُ بِرُوْحِ الْقُدُس‘‘اے اللہ!  روح القدس کے ذریعے حسان کی مدد فرما۔(بخاری، کتاب الصلاۃ، باب الشعر فی المسجد، ۱/۱۷۲، الحدیث: ۴۵۳، ابو داؤد، کتاب الادب، باب ماجاء فی الشعر، ۴/۳۹۴-۳۹۵، الحدیث: ۵۰۱۵، معجم الکبیر، ۴/۳۷، الحدیث: ۳۵۸۰، واللفظ للمعجم)
  غیر خدا کا مدد کرنا شرک نہیں :
	  اس تفسیر سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غیرِ خدا کی مدد شرک نہیں ، اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مدد حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَامکے ذریعہ فرمائی اور جب حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَاممدد کر سکتے ہیں تو حضور پرنور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ بھی اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی طاقت و قدرت سے یقینا مدد فرما سکتے ہیں ، حضور اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا اپنی ظاہری حیات مبارکہ میں مدد فرمانے کا تو کثیر احادیث میں ذکر ہے، البتہ ہم یہاں 2 ایسے واقعات ذکر کرتے ہیں جن سے یہ ثابت ہوتاہے کہ سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنے وصالِ ظاہری کے بعد اپنی بارگاہ میں حاضر ہو کر فریاد کرنے والوں کی مدد فرمائی۔