عذاب دے گا۔ یونہی ایسی آیات میں مؤمنین و صالحین کے لئے خوشخبری ہوتی ہے کہ انہیں اعمال حسنہ کی بہترین جزاء ملے گی۔
(تفسیر کبیر، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۸۵، ۱/۵۹۴، روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۸۵، ۱/۱۷۵-۱۷۶، ملتقطاً)
وَلَقَدْ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الْکِتٰبَ وَقَفَّیۡنَا مِنْۢ بَعْدِہٖ بِالرُّسُلِ ۫ وَاٰتَیۡنَا عِیۡسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَاَیَّدْنٰہُ بِرُوۡحِ الْقُدُسِ ؕ اَفَکُلَّمَا جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌۢ بِمَا لَا تَہۡوٰۤی اَنۡفُسُکُمُ اسْتَکْبَرْتُمْ ۚ فَفَرِیۡقًا کَذَّبْتُمْ ۫ وَفَرِیۡقًا تَقْتُلُوۡنَ﴿۸۷﴾ وَقَالُوۡا قُلُوۡبُنَا غُلْفٌ ؕ بَلۡ لَّعَنَہُمُ اللہُ بِکُفْرِہِمْ فَقَلِیۡلًا مَّا یُؤْمِنُوۡنَ﴿۸۸﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور بے شک ہم نے موسٰی کو کتاب عطا کی اور اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو کھلی نشانیاں عطا فرمائیں اور پاک روح سے اس کی مدد کی تو کیا جب تمہارے پاس کوئی رسول وہ لے کر آئے جو تمہارے نفس کی خواہش نہیں تکبر کرتے ہوتو ان میں ایک گروہ کو تم جھٹلاتے اور ایک گروہ کو شہید کرتے ہو۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور بے شک ہم نے موسٰی کو کتاب عطا کی اور اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو کھلی نشانیاں عطا فرمائیں اور پاک روح کے ذریعے ان کی مدد کی تو (اے بنی اسرائیل!) کیا (تمہارا یہ معمول نہیں ہے؟ کہ) جب کبھی تمہارے پاس کوئی رسول ایسے احکام لے کر تشریف لایا جنہیں تمہارے دل پسند نہیں کرتے تھے تو تم تکبر کرتے تھے پھر ان (انبیاء میں سے) ایک گروہ کو تم جھٹلاتے تھے اور ایک گروہ کو شہید کردیتے تھے۔
{وَلَقَدْ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الْکِتٰبَ: ہم نے موسٰی کو کتاب دی۔}یہاں سے بنی اسرائیل کو دی گئی مزید نعمتیں بیان کی جا رہی ہیں ، اس آیت میں کتاب سے توریت مراد ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے تمام عہد مذکور تھے ۔ان میں سب سے اہم عہد یہ تھے کہ ہر زمانہ کے پیغمبروں کی اطاعت کرنا، ان پر ایمان لانا اور ان کی تعظیم وتوقیر کرنا جیسا کہ سورہ مائدہ آیت 21میں مذکور ہے۔
{وَقَفَّیۡنَا مِنْۢ بَعْدِہٖ بِالرُّسُلِ: اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے۔}حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے زمانہ سے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تک متواتر انبیاء کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آتے رہے، ان کی تعداد چار ہزار بیان کی گئی ہے، یہ سب حضرات حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شریعت کے محافظ اور اس کے احکام جاری کرنے والے تھے اور چونکہ ہمارے آقا، خاتَمُ الانبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے بعد نبوت کسی کو نہیں مل سکتی اس لیے شریعت ِمحمدیہ کی حفاظت و اشاعت کی خدمت علماء ربانی اور مجددین کو عطا ہوئی۔