ہو حالانکہ تورات میں تمہیں اس چیز سے بھی تو منع کیاگیا ہے۔ یہودیوں نے کہا : جنگ کے دوران ایک دوسرے کو قتل کرنے سے اگرچہ ہمارا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا ہو اعہد ٹوٹ جاتا ہے لیکن ہمیں اس بات سے شرم آتی ہے کہ ہمارے حلیف ذلیل ہوں کیونکہ اگر ہم نے ایک دوسرے کو قتل اور جلا وطن نہ کیا تو اس میں ہمارے حلیفوں کی ذلت ہے اور چونکہ فدیہ دے کر چھڑا لینے میں ان کی ذلت نہیں ہے اس لئے ہم اس عہد کو پورا کر دیتے ہیں۔ یہودیوں کی اس حرکت پر انہیں اس آیت میں ملامت کی جارہی ہے کہ جب تم نے اپنوں کی خونریزی نہ کرنے، ان کو بستیوں سے نہ نکالنے اور ان کے اسیروں کو چھڑانے کا عہد کیا تھا تویہ کیا دو رنگی ہے کہ تم ایک دوسرے کو قتل اور جلاوطن کرنے میں تو ہرگز دریغ نہیں کرتے اور جب کوئی گرفتار ہوجائے تو اسے فدیہ دے کر چھڑالیتے ہو اورجن باتوں کا تم نے عہد کیا تھا ان میں سے کچھ باتوں کو ماننا اور کچھ کو نہ ماننا کیامعنی رکھتا ہے ! جب تم ایک دوسرے کو قتل اور جلا وطن کرنے سے باز نہ رہے تو تم نے عہد شکنی کی اور حرام کے مرتکب ہوئے۔
{اَفَتُؤْمِنُوۡنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ: کیا کتاب کے کچھ حصے پر ایمان رکھتے ہو۔} بنی اسرائیل کا عملی ایمان ناقص تھا کہ کچھ حصے پر عمل کرتے تھے اور کچھ پر نہیں اور اس پر فرمایا گیا کہ کیا تم کتاب کے کچھ حصے پر ایمان رکھتے ہواور کچھ سے انکار کرتے ہو۔ اس آیت سے معلوم ہواکہ شریعت کے تمام احکام پر ایمان رکھنا ضروری ہے اور تمام ضروری احکام پر عمل کرنا بھی ضروری ہے ۔کوئی شخص کسی وقت بھی شریعت کی پابندی سے آزاد نہیں ہوسکتا اورخود کو طریقت کا نام لے کر یا کسی بھی طریقے سے شریعت سے آزاد کہنے والے کافر ہیں۔ اس کی تفصیل جاننے کیلئے فتاوی رضویہ کی 21ویں جلد میں موجود اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰیعَلَیْہِ کی کتاب ’’مَقَالُ الْعُرَفَائْ بِاِعْزَازِ شَرْعٍ وَعُلَمَائْ(علماء اور شریعت کی عظمت پر اہل ِمعرفت کا کلام)‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔یاد رہے کہ عظمت ِ توحیدکو ماننا لیکن عظمت ِ رسالت سے انکار کرنا بھی اسی زُمرے میں آتا ہے کہ کیا تم کتاب کے کچھ حصے کو مانتے ہو اور کچھ حصے کا انکار کرتے ہو۔
{خِزْیٌ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا: دنیا کی زندگی میں رسوائی۔} بنی اسرائیل کی دنیا میں تو یہ رسوائی ہوئی کہ بنی قُرَیظَہ 3 ہجری میں مارے گئے اور بنی نَضِیر اس سے پہلے ہی جلا وطن کردیئے گئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی کی طرفداری میں دین کی مخالفت کرنا اخروی عذاب کے علاوہ دنیا میں بھی ذلت و رسوائی کا باعث ہوتاہے۔ دنیا کے بڑے بڑے معاملات کو اِس آیت کے تحت دیکھا جاسکتا ہے۔ نیزیہ بھی معلوم ہوا کہ کبھی گناہوں کی شامت سے دنیاوی آفات بھی آجاتی ہیں۔
{وَمَا اللہُ بِغَافِلٍ: اور اللہ غافل نہیں۔}اس طرح کی آیات جن میں یہ مفہوم ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ان میں نافرمانوں کے لئے شدید وعیدہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے افعال سے بے خبر نہیں ہے ،تمہاری نافر مانیوں پر شدید