Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
161 - 520
ترجمۂکنزالعرفان:پھر یہ تم ہی ہو جو اپنے لوگوں کو قتل (بھی) کرنے لگے اور اپنے میں سے ایک گروہ کو ان کے وطن سے (بھی) نکالنے لگے، تم ان کے خلاف گناہ اور زیادتی کے کاموں میں مدد (بھی) کرتے ہواور اگر وہی قیدی ہو کر تمہارے پاس آئیں تو تم معاوضہ دے کر انہیں چھڑا لیتے ہو حالانکہ تمہارے اوپر تو ان کا نکالنا ہی حرام ہے۔ تو کیا تم اللہ کے بعض احکامات کو مانتے ہو اور بعض سے انکار کرتے ہو؟ تو جو تم میں ایسا کرے اس کا بدلہ دنیوی زندگی میں ذلت و رسوائی کے سوا اور کیا ہے اور قیامت کے دن انہیں شدید ترین عذاب کی طرف لوٹایا جائے گا اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خرید لی تو ان سے نہ تو عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی۔
{ثُمَّ اَنۡتُمْ ہٰۤـؤُلَآءِ:پھر یہ جو تم ہو۔}اس آیت میں حضور پرنور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے مقدس زمانے میں موجود یہودیوں کے عجیب و غریب طرزِ عمل کا بیان ہے، اس کا پس منظر یہ ہے کہ تورات میں بنی اسرائیل کو تین حکم دیئے گئے تھے: (۱)ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا۔ (۲)ایک دوسرے کو جلا وطن نہ کرنا۔ (۳)اگر وہ اپنی قوم کے کسی مرد یا عورت کو اس حال میں پائیں کہ اسے غلام یا لونڈی بنا لیا گیا ہے تو ا سے خرید کر آزاد کر دیں۔ نسل در نسل یہ عہد چلتا رہا یہاں تک کہ مدینہ منورہ کے گردو نواح میں آباد یہودیوں کے دو قبائل بنی قُرَیْظَہ اور بنی نَضِیْر میں منتقل ہوا، اس وقت مدینہ شریف میں مشرکوں کے دو قبیلے اَوْس اور خَزْرَج ْرہتے تھے، بنی قُرَیْظَہ اوس قبیلے کے حلیف تھے اور بنی نَضِیْر خزرج قبیلے کے حلیف تھے اور ہر ایک قبیلہ نے اپنے حلیف کے ساتھ قسم اٹھارکھی تھی کہ اگر ہم میں سے کسی پر کوئی حملہ آور ہو تو دوسرا اس کی مدد کرے گا۔جب اوس اور خزرج کے درمیان جنگ ہوتی تو بنی قُرَیْظَہ اوس کی اوربنی نَضِیْر خزرج کی مدد کے لیے آتے تھے اور اپنے حلیف کے ساتھ ہو کر آپس میں ایک دوسرے پر تلوار چلاتے اور بنی قُرَیْظَہ بنی نَضِیْر کو اور وہ بنی قُرَیْظَہ کو قتل کرتے، ان کے گھر ویران کردیتے اور انہیں ان کی رہائش گاہوں سے نکال دیتے تھے، لیکن جب ان کی قوم کے لوگوں کو ان کے حلیف قید کرلیتے تو وہ ان کو مال دے کر چھڑالیتے تھے، مثلا ً اگر بنی نَضِیْر کا کوئی شخص اوس قبیلے کے ہاتھ میں گرفتار ہوتا توبنی قُرَیْظَہ اوس قبیلے کو مالی معاوضہ دے کر اس کو چھڑا لیتے حالانکہ اگر وہی شخص لڑائی کے وقت ان کے ہاتھ آجاتا تو اسے قتل کرنے میں ہر گز دریغ نہ کرتے تھے۔لوگوں نے ان سے کہا کہ تم بھی عجیب لوگ ہو کہ ایک دوسرے کو قتل بھی کرتے ہو اور فدیہ دے کر چھڑا بھی لیتے ہو۔یہودیوں نے کہا : ہمیں تورات میں یہ حکم دیاگیاہے کہ ہم اپنے قیدیوں کو فدیہ دے کر چھڑ الیں ، اس پر ان سے کہا گیا کہ پھر تم ایک دوسرے کو قتل کیوں کرتے