نے عرض کی:ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس درہم اور سازو سامان نہ ہو۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ (وغیرہ اعمال) لے کر آئے اور ا س کا حال یہ ہو کہ ا س نے(دنیا میں ) کسی کو گالی دی تھی، کسی پر تہمت لگائی تھی، کسی کا مال کھایا تھا، کسی کا خون بہایا تھا اور کسی کو مارا تھا تو اِن میں سے ہر ایک کو ا ُس کی نیکیاں دے دی جائیں گی اور اُن کے حقوق پورے ہونے سے پہلے اگر ا س کی نیکیاں (اس کے پاس سے) ختم ہوگئیں تو اُن کے گناہ اِس پر ڈال دئیے جائیں گے،پھر اسے جہنم میں ڈال دیاجائے گا۔(1)(مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب تحریم الظلم، ص۱۳۹۴، الحدیث: ۵۹ (۲۵۸۱))
{وَقُوۡلُوۡا لِلنَّاسِ حُسْنًا: اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔} اچھی بات سے مراد نیکی کی دعوت اور برائیوں سے روکنا ہے۔ نیکی کی دعوت میں اس کے تمام طریقے داخل ہیں ، جیسے بیان کرنا، درس دینا، وعظ و نصیحت کرناوغیرہ ۔ نیز اچھی بات کہنے میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی شان، اولیاء رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کے مقام ومرتبہ کا بیان اور نیکیوں اور برائیوں کے متعلق سمجھانا سب شامل ہیں۔ (2)
{اِلَّا قَلِیۡلًا مِّنۡکُمْ: مگر تم میں سے تھوڑے۔}بنی اسرائیل کی اکثریت اللہ تعالیٰ سے عہدو پیمان کرنے کے بعد اپنے عہد سے پھر گئی اور گناہوں کے راستے پر چل پڑی، البتہ کچھ لوگ صحیح راستے پر ثابت قدم رہے اور اسی گروہ والے ہمارے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا زمانہ پا کر ایمان لے آئے۔
بنی اسرائیل کی بد عہدی کو سامنے رکھ کرمسلمان بھی اپنی حالت پر غور کریں :
اس آیت میں بنی اسرائیل کی جو حالت بیان کی گئی افسوس کہ فی زمانہ مسلمانوں کی حالت بھی اس سے کچھ مختلف نہیں۔ کاش کہ ہم بھی غور کریں کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے کلمہ پڑھ کر ہم نے نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، اطاعت ِ الٰہی، اطاعت ِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ، حقوقُ اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی پابندی کا جو عہد اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا ہوا ہے کیا ہم بھی اسے پورا کرتے ہیں یا نہیں ؟
وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیۡثٰقَکُمْ لَا تَسْفِکُوۡنَ دِمَآءَکُمْ وَلَا تُخْرِجُوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَاَنۡتُمْ تَشْہَدُوۡنَ﴿۸۴﴾
1: امیرِ اہلِسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم الْعَالیہ کا اس موضوع پر رسالہ،، ظلم کا انجام،، (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
2: نیکی کی دعوت عام کرنے کے لئے ،، دعوتِ اسلامی،، کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔