سب ا س عہد سے پھر گئے اور تم بھی اپنے آباؤ اجداد کی طرح اللہ تعالیٰ کے احکام سے منہ موڑنے والے ہو۔
(جلالین مع صاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۸۳، ۱/۸۱-۸۲، ملخصاً)
اس سے معلوم ہو اکہ بنی اسرائیل کی عادت ہی اللہ تعالیٰ کے احکام سے اعراض کرنا اور اس کے عہد سے پھر جاناہے۔
{وَبِالْوٰلِدَیۡنِ اِحْسٰنًا: اور والدین کے ساتھ بھلائی کرو۔} اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کا حکم فرمانے کے بعد والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی خدمت بہت ضروری ہے۔ والدین کے ساتھ بھلائی یہ ہے کہ ایسی کوئی بات نہ کہے اور ایسا کوئی کام نہ کرے جو اُن کیلئے باعث ِ تکلیف ہو اور اپنے بدن اور مال سے ان کی خوب خدمت کرے، ان سے محبت کرے، ان کے پاس اٹھنے بیٹھنے، ان سے گفتگو کرنے اور دیگر تمام کاموں میں ان کا ادب کرے، ان کی خدمت کیلئے اپنا مال انہیں خوش دلی سے پیش کرے، اور جب انہیں ضرورت ہو ان کے پاس حاضر رہے۔ ان کی وفات کے بعد ان کیلئے ایصالِ ثواب کرے، ان کی جائز وصیتوں کو پورا کرے، ان کے اچھے تعلقات کو قائم رکھے۔ والدین کے ساتھ بھلائی کرنے میں یہ بھی داخل ہے کہ اگر وہ گناہوں کے عادی ہوں یا کسی بدمذہبی میں گرفتار ہوں تو ان کو نرمی کے ساتھ اصلاح و تقویٰ اور صحیح عقائد کی طرف لانے کی کوشش کرتا رہے۔(تفسیر خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۸۳، ۱/۶۶، تفسیر عزیزی (مترجم)، ۲/۵۵۷-۵۵۸، ملتقطاً)
حقوقِ والدین کی تفصیل جاننے کیلئے فتاویٰ رضویہ کی 24 ویں جلد میں موجود اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنْ کا رسالہ ’’اَلْحُقُوقْ لِطَرْحِ الْعُقُوقْ(والدین، زوجین اور اساتذہ کے حقوق)‘‘ کامطالعہ فرمائیں۔ (1)
{وَذِی الْقُرْبٰی: اور رشتے داروں سے۔}حقوق العباد میں سب سے مقدم ماں باپ کا حق ہے پھر دوسرے رشتے داروں کا اورپھر غیروں کا۔ غیروں میں بے کس یتیم سب سے مقدم ہے پھر دوسرے مساکین۔
اسلام میں حقوق العباد کی اہمیت:
اس آیت میں والدین اور دیگر لوگوں کے حقوق بیان کرنے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دینِ اسلام میں حقوق العباد کی بہت زیادہ اہمیت ہے، بلکہ احادیث میں یہاں تک ہے کہحقوقُ اللہ پورا کرنے کے باوجود بہت سے لوگ حقوق العباد میں کمی کی وجہ سے جہنم کے مستحق ہوں گے، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے، حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’ کیا تم جانتے ہو کہ مُفلِس کون ہے؟صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم
1۔۔۔۔:نیز امیرِ اہلِسنّت حضرت علّامہ مولانا محمد الیاس عطّار قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ کا رسالہ،، سمندری گنبد،، (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) پڑھنا بھی بہت مفید ہے۔