ترجمۂکنزالعرفان:کیوں نہیں ، جس نے گناہ کمایا اور اس کی خطا نے اس کا گھیراؤ کرلیا تو وہی لوگ جہنمی ہیں ، وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ جنت والے ہیں انہیں ہمیشہ اس میں رہنا۔
{بَلٰی مَنۡ کَسَبَ سَیِّئَۃً وَّاَحٰطَتْ بِہٖ خَطِیۡٓـئَتُہٗ: کیوں نہیں ،جس نے گناہ کمایا اور اس کی خطا نے اس کا گھیراؤ کر لیا۔} اس آیت میں گناہ سے شرک و کفر مراد ہے اور احاطہ کرنے سے یہ مراد ہے کہ نجات کی تمام راہیں بند ہوجائیں اور کفر و شرک ہی پر اس کو موت آئے کیونکہ مومن خواہ کیسا بھی گنہگار ہو گناہوں سے گھرا نہیں ہوتا اس لیے کہ ایمان جو سب سے بڑی نیکی ہے وہ اس کے ساتھ ہے۔
وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیۡثٰقَ بَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ لَا تَعْبُدُوۡنَ اِلَّا اللہَ ۟ وَبِالْوٰلِدَیۡنِ اِحْسٰنًا وَّذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیۡنِ وَقُوۡلُوۡا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ ؕ ثُمَّ تَوَلَّیۡتُمْ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّنۡکُمْ وَاَنۡتُمۡ مُّعْرِضُوۡنَ﴿۸۳﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں سے اور لوگوں سے اچھی بات کہو اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو پھر تم پھِر گئے مگر تم میں کے تھوڑے اور تم رو گردان ہو۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور یاد کروجب ہم نے بنی اسرائیل سے عہدلیا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ (اچھا سلوک کرو) اور لوگوں سے اچھی بات کہو اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو (لیکن)پھر تم میں سے چند آدمیوں کے علاوہ سب پھر گئے اور تم (ویسے ہی اللہ کے احکام سے)منہ موڑنے والے ہو۔
{وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیۡثٰقَ بَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ:اور یاد کروجب ہم نے بنی اسرائیل سے عہدلیا۔} یعنی اے یہودیو!وہ وقت یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے تورات میں یہ عہدلیا کہ تم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور رشتہ داروں ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور لوگوں سے اچھی بات کہو اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو لیکن اسے قبول کرنے کے بعدان میں سے چند آدمیوں کے علاوہ