Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
156 - 520
اللہ ہرگز اپنا عہد خلاف نہ کرے گا یا خدا پر وہ بات کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور بولے: ہمیں تو آگ ہرگز نہ چھوئے گی مگر گنتی کے چنددن۔ اے حبیب! تم فرمادو: کیا تم نے خدا سے کوئی وعدہ لیا ہوا ہے؟(اگر ایسا ہے، پھر) تو اللہ ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرے گا بلکہ تم اللہ پر وہ بات کہہ رہے ہو جس کا تمہیں علم نہیں۔
{لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ: ہمیں تو ہرگز آگ نہ چھوئے گی۔} حضرت عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہے  کہ یہودی کہتے تھے کہ وہ دوزخ میں ہرگز داخل نہ ہوں گے مگر صرف اتنی مدت کے لیے جتنے عرصے ان کے آباؤ اجداد نے بچھڑے کو پوجا تھا (اس کے بعد وہ عذاب سے چھوٹ جائیں گے) اور وہ مدت چالیس دن ہیں۔ بعض یہودیوں کے نزدیک سات دن ہیں۔      (قرطبی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۸۰، ۱/۱۰، الجزء الثانی، ابو سعود، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۸۰، ۱/۱۴۵، ملتقطاً) 
	اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ چنانچہ اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں فرمایا گیا کہ اے حبیب!  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ، تم ان سے فرمادو کہ کیا تم نے اللہ تعالیٰ سے کوئی وعدہ لیا ہوا ہے کہ وہ تمہیں چند دن کیلئے ہی جہنم میں ڈالے گا؟ اگر ایسا کوئی عہد ہے، پھر تو اللہ تعالیٰ ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرے گا لیکن ایسا کچھ ہے نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ رہے ہو اور اللہ تعالیٰ تم سے ایسا وعدہ کیوں کرے گا کہ تم جہنم میں زیادہ عرصے کیلئے نہیں رہو گے حالانکہ اللہ  تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جس نے گناہ کا ارتکاب کیا اور اس کے گناہ نے اسے ہر طرح سے گھیر لیا یعنی وہ کفر میں جاپڑا تو وہ جہنم میں جائے گا اور ہمیشہ ہمیشہ وہاں رہے گا۔ 
بَلٰی مَنۡ کَسَبَ سَیِّئَۃً وَّاَحٰطَتْ بِہٖ خَطِیۡٓـئَتُہٗ فَاُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ﴿۸۱﴾ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ۚ ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ٪﴿۸۲﴾
ترجمۂکنزالایمان:ہاں کیوں نہیں جو گناہ کمائے اور اس کی خطا اسے گھیر لے وہ دوزخ والوں میں ہے انہیں ہمیشہ اس میں رہنا۔اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے وہ جنت والے ہیں انہیں ہمیشہ اس میں رہنا۔